شہرِ گل کے خس و خاشاک سے خو ف آتا ہے

افتخار عارف کی ایک اردو غزل

شہرِ گل کے خس و خاشاک سے خو ف آتا ہے
جس کا وارث ہوں اُسی خاک سے خوف آتا ہے

شکل بننے نہیں پا تی کہ بگڑ جا تی ہے
نئی مٹی کو ابھی چا ک سے خوف آتا ہے

ہرِ گل کے خس و خاشاک سے خو ف آتا ہے
جس کا وارث ہوں اُسی خاک سے خوف آتا ہے

شکل بننے نہیں پا تی کہ بگڑ جا تی ہے
نئی مٹی کو ابھی چا ک سے خوف آتا ہے

وقت نے ایسے گھمائے افق آفاق کہ بس
محورِ گردشِ سفّا ک سے خوف آتا ہے

یہی لہجہ تھا کہ معیار سخن ٹھہرا تھا
اب اسی لہجۂ بے باک سے خوف آتا ہے

آگ جب آگ سے ملتی ہے تو لو دیتی ہے
خاک کو خاک کی پو شاک سے خوف آتا ہے

قامتِ جاں کو خوش آیا تھا کبھی خلعتِ عشق
اب اسی جامۂ صد چاک سے خوف آتا ہے

کبھی افلاک سے نا لوں کے جواب آتے تھے
ان دنوں عالمِ افلاک سے خوف آتا ہے

رحمتِ سیدِ لولاک پہ کامل ایمان
امتِ سیدِ لولاک سے خوف آتا ہے

افتخار عارف

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔