شہر کے سارے دادا گیروں سے

عمران عامی کی ایک اردو غزل

شہر کے سارے دادا گیروں سے
اَپنی بنتی نہیں ہے’ پِیروں سے

مشورے ٹھیک دینے لگ گئے ہیں
اِن دنوں تنگ ہوں’ مشیروں سے

شُکر ہے راستہ نہيں پوچھا
رائے مانگی تھی’ راہ گیروں سے

بدَ دُعا تک تو دے چکے ہیں تمھیں
اور کیا چاہیے ‘ فقیروں سے

یہ تو بہلَول آ گئے ورنہ
شاہ پِٹ جانا تھا ‘ وزیروں سے

اُس کے مرنے کا اِنتظار کرو
خُودکشی کر رہا ہے ‘ ہِیروں سے

کتنا سستا پڑا ہے مت پوچھیں
دل خریدا تھا ‘ بےضمیروں سے

یہ ترے ہاتھ کاٹ کھائیں گی
اِتنا اُلجھا نہ کر لکیروں سے

شاہ کی خلعتیں بُنی گئی ہیں
ہم فقیروں کی ‘ چند لِیروں سے

عمران عامی

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔