شب کی دیوار گرا دی ہے شفق زادی نے

مبشر سعید کی ایک اردو غزل

شب کی دیوار گرا دی ہے شفق زادی نے
دھوپ، شہ کار بنا دی ہے شفق زادی نے

لمس کرنوں کا مرے خواب چرا لیتا ہے
کیسی تصویر دکھا دی ہے شفق زادی نے؟

دل گلِ تازہ کی خوشبو سے بھرا جاتا ہے
یوں سَحر خیز ہوا دی ہے شفق زادی نے

کر دئیے دان مجھے قُرب کے سندر لمحے
اور یوں مجھ کو بقا دی ہے شفق زادی نے

حالتِ ہجر میں اشکوں کی دھواں دار فضا
رُخِ روشن سے سجا دی ہے شفق زادی نے

وہ ضیا بار تبسم میں ملے گی مجھ کو
دل میں امید جگا دی ہے شفق زادی نے

مبشّر سعید

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔