شبِ معراج

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

شبِ معراج اسلامی تاریخ کا وہ عظیم واقعہ ہے جس نے زمین اور آسمان کے درمیان فاصلے ختم کر دیے اور انسان کو اس کی اصل پہچان سے روشناس کرایا۔ یہ رات محض ایک معجزہ نہیں بلکہ ایمان، یقین، صبر اور قربِ الٰہی کی وہ داستان ہے جس میں ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی موجود ہے۔ یہ وہ رات ہے جس نے یہ واضح کر دیا کہ اللہ کے ہاں بلندی طاقت سے نہیں بلکہ بندگی سے ملتی ہے۔

شبِ معراج کا واقعہ ایسے نازک اور کٹھن وقت میں پیش آیا جب نبی کریم ﷺ انسانی اعتبار سے شدید غم اور تنہائی کا شکار تھے۔ حضرت خدیجہؓ جیسی رفیقۂ حیات اور حضرت ابو طالب جیسے محافظ کا سایہ اٹھ چکا تھا۔ طائف کی گلیوں میں لہولہان جسم، قریش کی مسلسل اذیتیں اور دعوتِ حق کا بظاہر محدود دائرہ ایک عام انسان کو توڑ دینے کے لیے کافی تھا۔ مگر یہی وہ لمحہ تھا جب اللہ نے اپنے محبوب کو یہ بتانا چاہا کہ زمین پر رد کیا جانا آسمان میں قبولیت کی علامت بن جاتا ہے۔

مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک کا سفر صرف ایک جسمانی سفر نہیں تھا بلکہ یہ امت کے عقیدے، تاریخ اور مرکزیت کا اعلان تھا۔ مسجدِ اقصیٰ کو اس سفر میں شامل کر کے یہ واضح کر دیا گیا کہ یہ امت ماضی، حال اور مستقبل کی امین ہے۔ یہ سفر اس بات کا ثبوت تھا کہ اسلام کسی ایک قوم یا علاقے کا دین نہیں بلکہ تمام انبیاء کی مشترکہ دعوت کا تسلسل ہے۔

مسجدِ اقصیٰ میں تمام انبیاء کی امامت کا شرف نبی کریم ﷺ کو عطا ہوا۔ یہ منظر اعلان تھا کہ قیادت کا حق کسی نسل یا قوم کو نہیں بلکہ کردار اور امانت کو ملتا ہے۔ اس کے بعد آسمانوں کا سفر شروع ہوا۔ پہلے آسمان پر حضرت آدمؑ، پھر حضرت عیسیٰؑ اور حضرت یحییٰؑ، حضرت یوسفؑ، حضرت ادریسؑ، حضرت ہارونؑ، حضرت موسیٰؑ اور حضرت ابراہیمؑ سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ہر ملاقات میں ایک سبق، ایک پیغام اور ایک حقیقت پوشیدہ تھی کہ راستہ ایک ہے، منزل ایک ہے اور امتحان سب کے لیے یکساں ہے۔

پھر وہ مقام آیا جہاں عقل کے پر جل جاتے ہیں اور الفاظ بے معنی ہو جاتے ہیں۔ سدرۃ المنتہیٰ وہ حد ہے جہاں مخلوق کا علم ختم ہو جاتا ہے۔ وہاں نبی کریم ﷺ کو وہ قرب عطا ہوا جس کی مثال تاریخِ انسانی میں نہیں ملتی۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں محبوبِ حقیقی نے اپنے محبوب کو وہ تحفہ عطا کیا جو پوری امت کے لیے تھا۔

نماز شبِ معراج کا سب سے عظیم تحفہ ہے۔ ابتدا میں پچاس نمازوں کا حکم، پھر حضرت موسیٰؑ کے مشورے پر بار بار واپسی اور آخرکار پانچ نمازوں کا فرض ہونا، یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ اپنی امت پر بوجھ نہیں بلکہ رحمت نازل کرتا ہے۔ نماز صرف عبادت نہیں بلکہ مومن کے لیے روزانہ کی معراج ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری نماز ہمیں واقعی برائی سے روکتی ہے، کیا وہ ہمیں صبر، برداشت اور عدل سکھاتی ہے یا ہم نے اسے محض عادت بنا لیا ہے۔

شبِ معراج ایمان بالغیب کی عملی تصویر ہے۔ اس واقعے نے یہ فرق واضح کر دیا کہ کون عقل کا غلام ہے اور کون یقین کا امین۔ بہت سے لوگ اس واقعے کے بعد پیچھے ہٹ گئے مگر حضرت ابو بکرؓ جیسے لوگ اسی لمحے صدیق کہلائے۔ یہی ایمان کا معیار ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بات پر بغیر تردد یقین کیا جائے۔

آج کا انسان سائنسی ترقی پر نازاں ہے، آسمانوں تک رسائی کا دعویدار ہے، مگر روحانی طور پر پہلے سے زیادہ خالی دکھائی دیتا ہے۔ شبِ معراج ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل ترقی دل کی ہوتی ہے، اصل سفر اندر کا سفر ہے اور اصل کامیابی اللہ سے تعلق میں ہے۔ اگر معراج کے بعد نماز ہماری زندگی نہ بدل سکی تو ہمیں اپنے ایمان کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

شبِ معراج یہ پیغام بھی دیتی ہے کہ آزمائش کے بعد انعام آتا ہے، اندھیرے کے بعد روشنی اور صبر کے بعد بلندی۔ یہ رات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو کبھی نظرانداز نہیں کرتا۔ وہ بلاتا ضرور ہے، شرط صرف یہ ہے کہ دل میں یقین زندہ ہو۔

آخر میں سوال یہ نہیں کہ معراج کیسے ہوئی، سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس رات کے پیغام کو سمجھا۔ کیا ہماری زندگی میں نماز زندہ ہے، کیا ہمارا کردار آسمان کی طرف اٹھتا ہے یا ہم زمین کی خواہشوں میں گم ہو چکے ہیں۔ شبِ معراج ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے، اگر ہم سننے کو تیار ہوں۔

یوسف صدیقی

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔ میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔ بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔