سینے پہ کب سے ہاتھ ہے اور ہٹ نہیں رہا
میں ہجر کاٹتا ہوں مگر کٹ نہیں رہا
بالوں میں آ گئی ہے سفیدی اور ایک تُو
ایسا بسا ہے دل میں ذرا گھٹ نہیں رہا
اتنا بھی میری ذات پہ تُو بد گماں نہ ہو
میں پڑھ رہا ہوں یار تُجھے رٹ نہیں رہا
یہ جسم ہو رہا ہے ناں تقسیم، ہونے دو
میں ذہنی طور پر تو کہیں بٹ نہیں رہا
تُو میرے ساتھ رہ کے بھی اُکتا ہی جائے گا
میں خُود بھی اپنے ساتھ کبھی جھٹ نہیں رہا
پانی گھروں میں آ گیا دل کو خوشی ہوئی
اور دُکھ بھی ہے کہ گاوں میں پنگھٹ نہیں رہا
حالات نے فقط نہیں چھینی مِری ہنسی
تُو بھی تو یار پہلے سا نٹ کھٹ نہیں رہا
تسلیم کر چکا ہوں میں اپنی شکست کو
اب دل میں خواہشات کا جھرمٹ نہیں رہا
پتھر کا ہو گیا ہوں میں میثم علی، کہ وہ
جا بھی چُکا ہے اور یہ دل پھٹ نہیں رہا
میثم علی آغا