ساری کڑیاں مِلا کے بیٹھے ہیں

حافظؔ زین العٰابدین کی ایک اردو غزل

ساری کڑیاں مِلا کے بیٹھے ہیں
ہم خسارے سجا کے بیٹھے ہیں

کون آئے گا فاتحہ پڑھنے
یونہی شمع جلا کے بیٹھے ہیں

بے وفاؤں کا داخلہ ہے منع
دل پہ پہرے خدا کے بیٹھے ہیں

چیر کے دیکھ لو جگر چاہے
نقش تیرا بنا کے بیٹھے ہیں

تم ملے ہو گلے ابھی جن سے
آستینیں چڑھا کے بیٹھے ہیں

 

حافظؔ زین العٰابدین

حافظ زین العابدین

حافظؔ زین العٰابدین ۔ جائے پیدائش ۔ قصور، پنجاب نو سال کی عمر میں حفظِ قرآن کرنے کے بعد اپنی دنیاوی تعلیم کا آغاز کیا ۔ پنجاب کالج قصور سے انٹر کے بعد اب فیملی بزنس سنبھال رہا ہوں۔۔۔ شاعری کا آغاز آٹھ برس قبل کیا ۔۔۔ پہلا شعری مجموعہ اشاعت کے مراحل میں ہے