پاکستان کے آئین نے اُردو کو قومی زبان قرار دے کر ایک واضح قومی سمت متعین کی تھی۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ تقرری کاغذوں تک محدود رہی یا عملی طور پر عوامی زندگی میں جگہ بنا سکی؟۔ زبان صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک قوم کی شناخت، ثقافتی ہم آہنگی اور انصاف تک رسائی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ جب قانون اور عدلیہ اُس زبان میں بولیں جو عوام سمجھتے ہوں تو انصاف کے دروازے وسیع ہوتے ہیں۔ بصورتِ دیگر قانون دانوں اور ججوں کی زبان عوام کو غیر متعلق اور لاشعوری طور پر محروم کر دیتی ہے۔ اسی نکتے کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کالم دیکھنے کی کوشش ہے کہ آئینِ پاکستان اردو کو کیا حیثیت دیتا ہے، اس پر عملدرآمد میں کون سی رکاوٹیں ہیں اور مستقبل کا لائحہ عمل کیا ہو سکتا ہے۔
آئینِ پاکستان نے اردو کو قومی زبان قرار دے کر ریاست کو اس کی ترویج اور نفاذ کی ذمہ داری سونپی۔ یہ محض علامتی اعلان نہیں تھا بلکہ زبان کو سرکاری دائرہ کار، تعلیم، قانون اور انتظامیہ میں رائج کرنے کا عزم تھا۔ تاہم نوآبادیاتی ورثے نے انگریزی کو ادارہ جاتی زبان کے طور پر قائم رکھا جس کے باعث اطلاق محدود رہا۔ محض آئینی شقیں کافی نہیں ہوتیں؛ عملی منصوبہ بندی اور سیاسی عزم ناگزیر ہے۔
قانون سازی اگر اردو میں ہو تو عام شہری کے لیے قوانین سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ ہر ایکٹ، ضابطہ اور قاعدہ اگر اردو میں شائع ہو اور سرکاری سطح پر دستیاب ہو تو عوام اپنے حقوق اور ذمہ داریوں سے براہِ راست آگاہ ہو سکتے ہیں۔ عدالتوں میں مقدمات کی کارروائی، دلائل اور فیصلے بھی اگر اردو میں ہوں تو انصاف کی رسائی مزید سہل ہو جائے۔ یہ تبھی ممکن ہوگا جب وکلا اور جج اردو کو بطورِ عدالتی زبان فروغ دیں۔
قانونی تعلیم کے میدان میں بھی انگریزی کی اجارہ داری ہے۔ بیشتر نصاب مکمل طور پر انگریزی میں ہونے کے باعث بڑی تعداد میں طلبہ اور وکلا قانون کی تعلیم سے دور رہتے ہیں۔ اگر ایل ایل بی اور دیگر قانونی مضامین کا ایک حصہ اردو میں شامل کیا جائے تو یہ علم کی جڑیں وسیع معاشرے تک پھیل جائیں گی۔ ساتھ ہی قانونی اصطلاحات کا ایک جامع اور معیاری اردو ذخیرہ تیار کرنا بھی ضروری ہے تاکہ تراجم محض لفظی نہ ہوں بلکہ اصل مفہوم درست طور پر منتقل ہو سکے۔
رکاوٹیں البتہ اپنی جگہ موجود ہیں۔ نوآبادیاتی دور کے اثرات اب بھی ہمارے اداروں پر حاوی ہیں اور انگریزی کو برتر زبان سمجھا جاتا ہے۔ ماہر ترجمہ نگاروں کی کمی، محدود وسائل اور حکومتی عدم دلچسپی بھی اردو کے نفاذ کو روکتی ہے۔ ڈیجیٹل میدان میں اردو کے لیے سہولتوں کی کمی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
اس سب کے باوجود حل موجود ہیں۔ سب سے پہلے ایک ایسا سرکاری ادارہ قائم کیا جائے جو قوانین کے مستند اردو تراجم شائع کرے۔ عدالتوں کو لازم ہونا چاہیے کہ فیصلوں کے اردو متون یا خلاصے جاری کریں تاکہ عوام عدالتی عمل کو سمجھ سکیں۔ قانونی تعلیم میں اردو کا حصہ بڑھایا جائے اور تحقیق کو فروغ دیا جائے۔ ماہرین پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو جدید اور قابلِ قبول اصطلاحات وضع کریں۔ بار کونسلز اور وکلا کو بھی پابند کیا جائے کہ قانونی مشاورت اور دستاویزات میں اردو استعمال کریں تاکہ عام شہری اپنے حقوق کو براہِ راست سمجھ سکے۔
ڈیجیٹل سطح پر بھی فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ قوانین، فیصلے اور دستاویزات اردو میں آن لائن دستیاب ہوں اور سرچ کے آسان نظام بنائے جائیں۔ جدید ٹیکنالوجی، خاص طور پر مشین لرننگ اور خودکار ترجمہ جاتی نظام، اردو کو مزید تقویت دے سکتے ہیں۔ اس نفاذ کو مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے: پہلے ضلعی عدالتوں سے آغاز ہو، پھر صوبائی اور آخر میں وفاقی سطح تک اس کا دائرہ وسیع کیا جائے۔
اردو کا نفاذ محض آئینی تقاضا نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ زبان وہ طاقت ہے جس کے ذریعے کمزور طبقات اپنی آواز بلند کر سکتے ہیں۔ اگر قانون کی زبان عوام کی زبان ہوگی تو انصاف زیادہ قریب، سستا اور قابلِ حصول ہو جائے گا۔ اس سے انصاف کا تصور بھی بدلے گا اور عدالتی نظام کو عوام دوست بنانے میں مدد ملے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ اردو کی قانونی حیثیت کو محض آئین کی سطور میں قید نہیں رہنا چاہیے۔ جب تک آئینی شقوں کو عملی جامہ نہ پہنایا جائے، زبان کی اصل طاقت سامنے نہیں آ سکتی۔ اردو کا نفاذ عدلیہ کی شفافیت، قانونی شعور، تعلیمی مساوات اور قومی یکجہتی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ صرف ترجمے کا عمل نہیں بلکہ ایک ایسی سوچ کا مطالبہ ہے جو قوم کو اپنی زبان کے ذریعے جوڑے۔ اگر ریاست، عدلیہ، تعلیمی ادارے اور وکلا ایک مربوط حکمتِ عملی اپنائیں تو آئین سے عملداری تک کا یہ سفر یقینی ہو سکتا ہے۔ اردو کا اصل مقام تب قائم ہوگا جب قانون کی زبان ہر شہری کے دل و دماغ تک پہنچے گی—اور اسی لمحے ہمارا قانونی نظام اور قومی یکجہتی اپنی مکمل شکل اختیار کرے گی۔
یوسف صدیقی