پِھر اُس کے بعد تو تنہائِیوں

رشید حسرت کی ایک اردو غزل

پِھر اُس کے بعد تو تنہائِیوں کے بِیچ میں ہیں
کہ غم کی ٹُوٹتی انگڑائِیوں کے بِیچ میں ہیں

غرور ایسا بھی کیا تُجھ کو شادمانی کا
کِسی کی چِیخیں جو شہنائِیوں کے بِیچ میں ہیں

ہمیں تو خوف سا لاحق ھے ٹُوٹ جانے کا
تعلُّقات جو گہرائِیوں کے بِیچ میں ہیں

ہمارے بِیچ میں ہے مسئلہ زمِینوں کا
فساد اِنہی پہ مِرے بھائِیوں کے بِیچ میں ہیں

ہمارا درد بھی اِک، سوچنے کا زاوِیہ ایک
عجِیب ناتے یہ صحرائِیوں کے بِیچ میں ہیں

کِسی کو اوجِ ثُریّا پہ لے چلے تھے مگر
زمانہ دیکھ ہمیں کھائیوں کے بِیچ میں ہیں

یہ دِل کا شِیشہ تو ٹُکڑوں میں بٹ چُکا کب کا
کہ سادہ دل ابھی رعنائِیوں کے بِیچ میں ہیں

وفا ھے کیا؟ یہاں مفہُوم کِس کو سمجھائیں
یہی تو دُکھ ھے کہ ہرجائِیوں کے بِیچ میں ہیں

بجا یہ بات کہ لازِم ھے ضبط حسرتؔ جی
اُداس آنکھیں یہ پُروائِیوں کے بِیچ میں ہیں

رشِید حسرتؔ

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔