پیڑوں نے دھوپ سر پہ ہے

ایک اردو غزل از ارشاد نیازی

پیڑوں نے دھوپ سر پہ ہے یونہی دھری ہوئی
بیکار تجھ ہوا کو ہے سوجن چڑھی ہوئی

ممکن ہے روپ سانپ کا اک روز دھار لے
رستے میں جو پڑی ہے یہ رسی جلی ہوئی

پتھر پہ میں ہتھیلی رگڑنے کا منتظر
اور تجھ کو روشنی کی ہے عجلت پڑی ہوئی

مہنگا پڑے گا قبر سے کائی اکھاڑنا
آواز دے گی ایک محبت مری ہوئی

پگھلے گی اختیار کے جلتے چراغ سے
جبڑوں میں برف صبر کی کب سے جمی ہوئی

یوں ہے کہ خامشی کی نہ چمڑی ادھیڑ دے
یوں ہے کہ آگ شہرِ صدا میں لگی ہوئی

ارشاد اب اندھیرا کھرچتی ہے رات بھر
آنکھوں کو انتظار کی عادت پڑی ہوئی

ارشاد نیازی

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔