پہاڑ، ندیوں میں آندھیوں کے بسیرے

سردار حماد منیر کی ایک اردو غزل

پہاڑ، ندیوں میں آندھیوں کے بسیرے دل کو بتا رہے ہیں
کہ ہوگی شبنم ہر ایک جانب کہ دن یہ ساون کے آ رہے ہیں

زوال آیا ویرانیوں پہ ، ہیں چار سو ، وادیوں میں پھیلے
کہیں پہ تیتر کہیں پرندے جو مل کہ سب چہچہا رہے ہیں

شگوفے باغوں میں کِھل رہے ہیں ہیں تِتِّلیا اُن پہ رنگ برنگی
یہ موسمِ گل ، بتا رہا ہے کہ دن یہ خوشیوں ، کے آ رہے ہیں

درخت سرسبز ہو رہے ہیں گلوں میں خوشبو مہک رہی ہے
اداس بلبل ،سریلی کوئل خوشی میں سب گنگنا رہے ہیں

اداس رہتے ، تھے ہر گھڑی جو وہیں سے ہو کر ،میں آرہا ہوں
وہ لوگ تنہائی بھول بیٹھے ہیں اب قفس کو سجا رہے ہیں

بہل رہا ہے ہر ایک مصرع پہ دل مرا ، اس کو کیسے روکوں
حیراں ہوں جنت کی دلکشی آپ کس طرح سے دِکھا رہے ہیں

نسیمِ دلبر کے میٹھے جھونکو میں جن کا چلنا محال تر تھا
وہ باد ِصرصر کی سرد لہروں میں آج زلفیں بنا رہے ہیں

وہ آبھی جائیں تو کیا ستم ہے یہ خواب پھر بھی رہیں ادھورے
نہ ہوش سنبھلے نہ بات ہو بیخودی میں لب کپکپا رہے ہیں

حمادؔ ان کی محبتوں کے فریب میں تم بھی پھنس گئے ہو
کہا نہ تھا جی وہ مست نظروں سے سب کو اپنا بنا رہے ہیں

نہیں ہیں داد و درہم کے خواہا ہمیں فقط ان کی جستجو ہے
زئے مقدر کہ حامی ہم سے وہ آج ملنے کو آ رہے ہیں

سردار حمادؔ منیر

سردار حماد منیر

سردار حمادؔ منیر کی پیدائش پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے مشہور شہر ایبٹ آباد کے ایک علاقے نتھیاگلی ملاچھ میں ہوئی جو کہ اپنی دلکشی اور خوبصورتی کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے پیکنک پوائنٹ کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ انہوں نے اپنی میٹرک تک کی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول نتھیاگلی سے حاصل کی اور 2022 میں میٹرک کا امتحان پاس کر کے تعلیم کے سلسلے میں اپنے جڑواں بھائی سردار مریض منیر کے ہمراہ ایبٹ آباد شہر کا رخ کیا اور وہاں گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج نمبر ون ایبٹ آباد میں داخلہ لیا اور وہیں سے 2024 میں آیف ایس سی کا امتحان پاس کیا اور ابھی وہ( ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکناجی ) سے اپنی گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنے میں مصروفِ عمل ہیں ۔اور شاعری کا شوق انہیں اپنے ہائی اسکول کی ابتدا ہی سے ہوا اور پھر اچھا اساتذہ کی رہنمائی سے فارسی عربی اور انگریزی جیسی زبانوں کے اصول کا شوق پڑا اور اسی سے ان کا رخ اُردو شاعری کی طرف مائل ہوا اور نتیجتاً ان وہ کالج کے دونوں میں خود بھی شاعری لکھنے لگے