نسبتوں کا فیضان

ایک اردو تحریر از محمد یوسف برکاتی

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
دراصل روحانی اعتبار سے کسی بزرگ ، اولیاء کرام ، اللہ تعالیٰ کے نیک اور باعمل بندے ، کسی اچھے اور نیک ماحول میں رہ کر دلی سکون حاصل کرنا اور اس سے دلی تعلق قائم کرنے کا نام ” نسبت ” ہے جس کے فوائد میں دل میں اللہ تعالیٰ کی قربت کے حصول اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی کرنے کے صحیح راستے کا تعین اخلاقی پاکیزگی اور نیک اعمال کی طرف رغبت ہونا ہے جبکہ اس کے نقصانات میں ان تمام اعمال کی نفی کرکے شیطان کے کہنے پر چلنے سے عذاب کا مسلط ہونا ہے ۔میرے نزدیک نسبت دو طرح کی ہوتی ہے ایک ظاہری نسبت اور ایک دلی نسبت یعنی اللہ تعالیٰ کے کسی نیک اور باعمل انسان کے ساتھ صحبت اختیار کرکے ان کے ساتھ وقت گزار کر ان سے فیض حاصل کرنا یہ ظاہری نسبت ہے جبکہ میرا تعلق اگر کسی سلسلے سے ہے اور میں چاہوں کہ مجھے لوگ میرے سلسلے سے پہچانیں مثال کے طور پر اگر میں قادری سلسلے سے تعلق رکھتا ہوں اور چاہوں کہ لوگ مجھے قادری سلسلے کے حساب سے یاد کریں تو میری نسبت قادری سلسلے کے روحانی پیشوا حضور غوث پاک حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ سے ہوگی یہ دلی نسبت ہے کہ میں اپنے پیرو مرشد کا مرید ہونے کے ناطے ان کے توسط سے اپنے آپ کو حضور غوث پاک رحمتہ اللہ علیہ کا مرید مانتا ہوں مرید تصور کرتا ہوں تو اب اس نسبت کا فیضان مجھے ملتا رہے گا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اللہ تعالیٰ کے کسی خاص بندے یا نیک ہستی کے ساتھ نسبت قائم کرلینے سے انسان کے دل میں اللہ سے محبت اس کی قربت اس کے ذکر کی تڑپ اور روحانی سکون پیدا ہوتا ہے اچھی اور بری چیزوں کی پہچان ہوتی ہے اسی نسبت کی بدولت عام چیزیں اور عام باتیں بھی خاص اور قابل احترام بن جاتی ہیں جیسے مقام ابراھیم ، قرآن کے صفحات اور اگر آپ کو ایک اچھے ، نیک اور باعمل مرشد کی صحبت مل جائے تعلق قائم ہو جائے تو ان سے وابستگی آپ کو بری عادتیں چھوڑنے اور صحیح راستے پر چلنے میں مدد فراہم کرتی ہیں پھر اللہ تعالیٰ کے ان نیک لوگوں کی نسبت کی بدولت نیکیوں کا ثواب اور اس کا اثر اور بھی بڑھ جاتا ہے جس کی اعلی مثال اصحاب کہف کا وہ کتاب ہے جس کا ذکر نیک لوگوں کی نسبت کی وجہ سے قرآن مجید میں ہمیشہ کے لیئے محفوظ ہوگیا ۔ یہاں ایک بات ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ بیشک شریعت کے اصول کے مطابق جہاں کسی نیک اور اللہ تعالیٰ کے خاص بندے سے نسبت کی بدولت آپ کے کسی بھی نیک عمل کے ثواب کو دوگنا کردیا جاتا ہے وہیں پر اس کی ناقدری اور اس کے بر خلاف عمل کرنے پر عذاب کا دائرہ بھی وسیع کردیا جاتا ہے کیونکہ صرف نیک لوگوں کی نسبت ہی سے آپ کو فیض نہیں ملتا بلکہ اس کے لیئے آپ کو بھی نیکی کی طرف جانا ہوگا نیک بننا ہوگا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں آپ بخوبی جانتے ہیں کہ دنیا دارالعمل ہے جبکہ آخرت دارالجزاء یعنی دنیاوی زندگی میں ہم جو عمل کریں گے آخرت میں ہمیں اس کی جزاء ملے گی نیک عمل کی جزاء اور گناہوں کی سزا لہذہ اچھے ماحول اچھے اور نیک لوگوں کی صحبت اللہ تعالیٰ کے نیک اور چنے ہوئے لوگوں سے نسبت ہی ہمیں جزاء کا مالک بنائے گی جبکہ اللہ تعالٰی کی نافرمانی اس کے رسول ﷺ کی احادیث پر عمل نہ کرنے کی ہمیں صرف سزا ہی ملے گی دونوں جہاں کی کامیابی کے لیئے اللہ تعالیٰ کا قرب اور حضور ﷺ سے نسبت قائم کرنا انتہائی ضروری ہے اچھی نسبت کا اثر بھی اچھا ہوتا ہے اب دیکھیں ایک شخص نے دو اینٹیں خریدیں ایک اینٹ کو اس نے مسجد کی فرش میں لگائی جبکہ دوسری اینٹ اس نے بیت الخلاء میں لگادی دونوں اینٹیں ایک جگہ سے بنائی گئی دونوں کی قیمت بھی ایک خریدنے والا بھی ایک لیکن جس اینٹ کی نسبت بیت الخلاء سے ہوئی وہاں ہم ننگے پیر جانا بھی پسند نہیں کرتے جبکہ جس اینٹ کو مسجد میں نصب کیا گیا اسے ہم تعظیم کے ساتھ چومتے ہیں بوسہ دیتے ہیں اور ماتھا بھی ٹیکتے ہیں پھر دونوں اینٹوں میں کیا فرق تھا تو بس فرق صرف نسبت کا تھا یہاں یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ اچھوں کی نسبت اچھائی کی طرف جبکہ بروں کی نسبت برائی کی طرف لے جاتی ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں دنیا اور آخرت کی کامیابی کے لیئے ہمیں دل سے حضور ﷺ سے نسبت قائم کرنا ہوگی کتنا ہوسکے درود پاک کا ورد کیا کریں زبان پر چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے درود شریف کا ورد جاری رکھیں یہ عمل آپ کو حضور ﷺ سے نسبت قائم کرنے میں بھرپور مدد دے گا بلکہ زندگی میں آنے والی ہر پریشانی ہر مشکل ہر بیماری اور ہر کٹھن مرحلے کا حل درود پاک ہے اور دل میں اس بات کا پکا یقین کرلیں کہ حضور ﷺ کی نسبت کی وجہ سے آپ پر کبھی کوئی عذاب نہ ہوگا کسی شاعر نے کیا خوب کہا کہ
روک لیتی ہے آپ کی نسبت تیر جتنے بھی ہم پر چلتے ہیں
یہ کرم ہے حضور ﷺ کا ہم پر آنے والے عذاب ٹلتے ہیں
نسبتوں کا فیضان صرف انہی لوگوں کو ملتا ہے جو اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کے نیک اور خاص لوگوں سے وابستہ کرلیتے ہیں جن کا اٹھنا بیٹھنا بھی اچھے لوگوں کے ساتھ رہتا ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں صرف کسی نیک اور اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں سے نسبت کی وجہ سے ہی فیض کا دریا نہیں بہتا بلکہ کئی بے جان چیزیں بھی ہیں جن کی نسبت اگر کسی اللہ تعالیٰ کے ولی سے ہو جائے تو اس سے بھی لوگوں کو فوائد ملنا شروع ہو جاتے ہیں جس کی سب سے اعلی مثال خانہ کعبہ میں نصب ایک پتھر ہے جسے ہم ” ہجر اسود ” کہتے ہیں اور جس کا ایک بوسہ لینے کی خواہش اہل ایمان کو بے چین کر دیتی ہے کیونکہ اس پتھر کو جنت سے نسبت ہے اور علماء اسے جنت سے لایا گیا پتھر کہتے ہیں اسی طرح جب حاجی عمرہ یا حج کی سعادت حاصل کرنے کی غرض سے مکہ مکرمہ جاتے ہیں تو جس جگہ سعی کے سات چکر لگاتے ہیں وہ دراصل صفا مروہ کی پہاڑی ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے اپنی اہلیہ حضرت حاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور شیر خوار بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑا۔ پانی ختم ہونے پر، حضرت حاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان پانی کی تلاش میں سات چکر لگائے۔ اس عظیم قربانی اور تڑپ کے صلے میں، اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایڑیوں کے نیچے سے آب زم زم کا معجزاتی چشمہ جاری کر دیا۔ لہذہ رب العزت نے اپنی اس محبوب بندی کی نسبت سے یہ لازم کردیا کہ جو شخص بھی حج یا عمرہ کی نیت سے یہاں قدم رکھے گا اسے ان کی یاد میں یہ سات چکر لگانے ہوں گے ورنہ حج یا عمرہ مکمل نہیں ہوگا لہذہ سعی کرنے اور سات چکر پورے کرنے کی نسبت بی بی حاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں تاریخ اسلام میں ہمیں بیشمار ایسی اشیاء کا ذکر ملتا ہے جس سے کسی نہ کسی کی نسبت ظاہر ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ذبح ہونے والے مینڈھے کی نسبت حضرت ابراھیم علیہ السلام سے وہ مچھلی جس کے پیٹ میں حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم سے خیریت سے رہے اور بحفاظت واپس دنیا میں تشریف لائے تو اس مچھلی کو نسبت ملی اللہ تعالیٰ کے محبوب نبی حضرت یونس علیہ السلام سے فرعون کے مقابلے میں کھڑا ہونے کے لیئے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جو عصا عطا فرمایا جو ایک خطرناک اژدھے کی شکل میں سامنے آیا اس عصا کو بھی اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے نسبت ہوئی طوفان نوح کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے بچانے والی کشتی جس کے سارے مسافر اس طوفان سے بچے رہے باقی سارے لوگ غرق کر دیئے گئے لہذہ اس کشتی کو نسبت ہوئی حضرت نوح علیہ السلام سے ۔ قرآن مجید کے مطابق، اپنے پیارے بیٹے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی جدائی کے صدمے اور مسلسل رونے کی وجہ سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی بینائی چلی گئی تھی۔ بعد ازاں، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کے ہاتھ اپنا کرتا (قمیص) روانہ کیا، جو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی آنکھوں پر ملتے ہی ان کی بینائی واپس آ گئی لہذہ اس کرتے کو نسبت ملی حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام سے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اسی طرح اگر ایک کاغذ ہے جس کو کئی طرح سے استعمال کیا جاتا ہے اسی کاغذ سے نوٹ بکس کتابیں پیڈز اور کئی چیزیں تیار کی جاتی ہیں اور یہ ہی کاغذ اللہ تعالیٰ کی کتاب یعنی قرآن مجید چھاپنے میں بھی استعمال ہوتا ہے لیکن جو کاغذ قرآن مجید کے لیئے استعمال ہوتا ہے اور قرآن مجید چھپ کر تیار ہو جاتا ہے تو اب اس کاغذ کو اللہ تعالیٰ کی اس عظیم کتاب سے نسبت ہوجاتی ہے یعنی ایسی نسبت کہ ہم بغیر وضو کے اس کاغذ کو چھو بھی نہیں سکتے اس کتاب کو عام کتاب کی طرح فرش پر بھی نہیں رکھ سکتے بلکہ احترام کے ساتھ ادب سے اس کتاب کو تعظیم کے ساتھ اوپر رکھتے ہیں کیونکہ اس کتاب میں موجود کاغذ کو قرآن مجید سے نسبت ہوگئی ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ہم نسبتوں کے فیضان کا کسی اللہ تعالیٰ کے نیک اور باعمل ہستی کے ساتھ ذکر کرتے ہیں تو وہ تو اپنی جگہ ہے لیکن دنیاوی اعتبار سے بھی اگر ہم غور کریں تو ہمیں یہ تعلق کئی جگہوں پر بڑا گہرا اور پر اثر دکھائی دیتا ہے جیسے اس وقت دنیا کے بڑے بڑے ملکوں اور شہروں میں بڑے بڑے عجائب گھر موجود ہیں جہاں وہ تاریخی اشیاء محفوظ کرکے رکھی گئی ہیں جن کا تعلق یا نسبت دنیاوی اعتبار سے کسی بڑی اور اہم شخصیت سے ہوتا ہے یہ اشیاء بھی نسبت کا کام کرتی ہیں اور ان اشیاء کا فیض یہ ہی ہوتا ہے کہ وہ ہماری نئی نسل کے لیئے ایک سیکھ کا کام کرتی ہیں ایسے عجائب گھروں میں قدیم کرسیاں،کتابیں،فن پارے،قدیم زمانے کےسِکّے، ہتھیار،تلواریں،طیّارے، لباس، برتن،اوزار وغیرہ آج بھی دنیا بھر کے عجائب خانوں (Museums) کی زِینت بنے ہوئے ہیں جو یہ یاد دلاتی ہیں کہ یہ اشیاء فلاں معروف شخصیت کے استعمال میں رہی ہیں یعنی ان اشیاء کو ان شخصیات سے نسبت رہی ہے اسی طرح ہمارے درمیان ہر وہ چیز جو کسی نہ کسی شخص کی ایجاد کردہ چیز ہے تو اس کی نسبت بھی ایجاد کرنے والے کے ساتھ قائم رہتی ہے جیسے کشتی سب سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام نے بنائی لہذہ رہتی قیامت تک کشتی کی نسبت حضرت نوح علیہ السلام سے رہے گی ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یہ بات ایک واضح حقیقت ہے کہ دنیا اور آخرت کی بھلائی صرف اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی کرنے اور اس کے حبیب کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرنے سے ہے لہذہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل پیرا ہونے کے لیئے قرآن مجید سے اپنی نسبت مظبوط کرنا ہوگی اور سنتوں پر عمل پیرا ہونے کے لیئے حضور ﷺ سے نسبت پکی رکھنا ہوگی اور دونوں نسبتوں کو مزید مظبوط بنانے کے لیئے زندگی میں کسی اللہ تعالیٰ کے خاص اور مقرب بندے سے نسبت قائم کرنا ہوگی نیکیوں کی طرف رجحان بڑھا کر گناہوں سے دور رہنا ہوگا تاکہ ہم پر بھی نسبتوں کا فیضان چھما چھم برسنے لگے اور اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کی نسبت ہمیں بروز محشر جنت جیسی نعمت سے مالا مال کردے آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مجھے سچ لکھنے ہمیں پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ مجھے دعاؤں میں خاص طور پر یاد رکھیئے گا ۔