نکلے تھے کسی مکان سے ہم

احمد مشتاق کی ایک اردو غزل

نکلے تھے کسی مکان سے ہم
روٹھے رہے اک جہان سے ہم

بدنامیاں دل سے آنکھ تک تھیں
رسوا نہ ہوئے زبان سے ہم

ہے تنگ جہانِ بود و نابود
اترے ہیں کسی آسمان سے ہم

پھولوں میں بکھر گئے تھے رستے
گزرے نہیں درمیان سے ہم

جو شان تھی ملتے وقت مشتاق
بچھڑے اسی آن بان سے ہم

احمد مشتاق

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔