نشے میں چاند تارے جھوم کر سَر دُھن رہے ہیں

سعد ضؔیغم کی ایک اردو غزل

نشے میں چاند تارے جھوم کر سَر دُھن رہے ہیں
زمیں پر ہم وحیداؔحمد سے نظمیں سُن رہے ہیں

تجھے کس بات کی جلدی ہے اے خوشبو کے جھونکے
ابھی تو ہم ترے رستے سے کانٹے چُن رہے ہیں

یہ میرے زخم جِن پر اپنے لَب رکھے ہیں تو نے
ہمیشہ سے یہاں پر وقت کے نَاخُن رہے ہیں

میں پھولوں سے تِرے بارے میں باتیں کر رہا ہوں
پرندے میری باتیں مُسکرا کر سُن رہے ہیں

دکھائیں تو کسے اس جمگھٹے میں سعد ضؔیغم
ہم اپنے دل میں جو خوابوں سے دنیا بُن رہے ہیں

سعد ضؔیغم

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔