Oplus_131072
مسلسل نیا الزام میرے سر ہوتا ہے
عشق میں ہی فقط یہ تحفہ نظر ہوتا ہے
اس کا مسئلہ ہے ہماری عادتیں نہیں ملتی
اسے بتاؤ جدا ارکان میں ہی گھر ہوتا ہے
لڑتا رہا میں ہر سنگ راہ سے مگر
گمراہوں کے ساتھ کب مکمل سفر ہوتا ہے
کیا ہوا ؟ ہو گیا ہوں اگر میں تمہارے جیسا
صحبت کا بھی تو میری جان اثر ہوتا ہے!
تجھ سے بچھڑے تب جاکر معلوم ہوا ہے
ہجر سے گزرے ،تو ہی بندہ گوہر ہوتا ہے
برسوں کی تھکان کو پل میں جدا کر دے
فقط محبوب کی آواز میں وہ ہنر ہوتا ہے
عمر ایسی ہے کہ ہر بات دل کو لگتی ہے
جو درد اُدھر نہیں ہوتا ، اِدھر ہوتا ہے
نگار فاطمہ انصاری