میں اپنے شاعر سے ملتمس ہوں

ایک نظم از فارحہ نوید

میں اپنے شاعر سے ملتمس ہوں
مجھے بھی نظموں کا گیان بخشے
مجھے بھی سارے حسین مصرعے
قلم سے نظموں میں ڈھالنے ہیں

خیال کو کس طرح اتاروں؟
کہاں پہ لکھوں میں شدتیں اور
وہ کیفیت جو!!
مری ہو اُس پل!!
کہ جس گھڑی وہ قریب آئے۔۔

میں اپنے شاعر سے ملتمس ہوں
مجھے بتائے!!!
قلم کو پکڑے کیا اپنی نتھلی گھما کے اس کا خیال دل میں جگا کے لکھوں؟
کیا اپنی آنکھوں سے ڈھلتے سورج
کا پیارا منظر چرا کے لکھوں؟
یا چاند جب بھی تمہارے چہرے کی چھب دکھا کے
مجھے ستائے تو نظم کہہ دوں؟

میں ملتجی ہوں!
کہ نظم کہتے
تمہاری یادوں کا شوخ جھونکا
نگر میں دل کے رباب سا کوئی ساز چھیڑے
تو نظم کہہ دوں؟

مگر وہ بت تو نہ جانے کب سے
مجھے ہی نظموں میں ڈھالنے کی لگن میں گم ہے..

میں کیسے نظموں کا گیان سیکھوں
کہ میرا شاعر!
مرے تصور میں
پینگ لفظوں کی جھولتا ہے
مجھے خیالوں میں نظم کر کے
ہر ایک مصرعے پہ داد سب سے وصولتا ہے

ادھر میں آدھی ادھوری نظمیں ورق پہ تھامے کھڑی ہوئی ہوں
امید لے کر

کہ کب مجھے بھی یہ پیارا شاعر
ہنر سکھائے!!
کہ اس کے سوھنے حسین چہرے
کو نظم کرنے کو کیا کروں میں؟
وہی نرالا ہنر جو اس کی تمام نظموں میں جا بجا ہے

مگر ابھی تو خیال سارے، سوال سارے،
وہ موضوعاتِ حیات سارے
میں جن کو اپنے قلم سے لکھنے کی منتظر ہوں
ورق پہ دل کے
بے ربط حالت میں الٹے سیدھے پڑے ہوئے ہیں

تبھی تو ان کو سنوارنے کو ،ورق پہ سارے اتارنے کو میں مضطرب ہوں

تو میرے شاعر
مجھے بھی نظموں کا گیان دے دے

جو اپنے جذبوں کو نظم جیسی حسین تسبیح میں پرو کے
تجھے سناؤں۔۔۔
سناتی جاؤں

میں منتظر ہوں
کہ میرا شاعر
مجھے بھی نظموں کا گیان بخشے

فارحہ نوید

فارحہ نوید

السلام علیکم میرا نام فارحہ نوید ہے ۔۔میں لاہور سے تعلق رکھتی ہوں ۔۔ پیشے کے لحاظ سے استاد ہوں الگ الگ نجی اداروں میں عرصۂ دس سال سے اردو انگریزی پڑھا رہی ہوں میرے تحریری سفر کا آغاز کہنے کو تو میٹرک کے بعد ہی شروع ہوگیا تھا مگر گھر والوں کے خوف سے کبھی کھل کر لکھ نہ سکی کہ اس وقت درسی کتب کے علاوہ کچھ لکھنے پڑھنے کی اجازت نہ تھی۔۔ پھر کبھی چھپ چھپا کر اپنی سکول کی سب سے قریبی دوست کے لیے کچھ بھی لکھ کر اسے ضائع کر دیتی تھی۔۔۔ گریجویشن میں کالج کے میگزین میں دو افسانے لکھ کر بھیجے جانے شائع ہوئے کہ نہیں۔۔ مگر میری اردو ادب کے شعبے سے تعلق رکھنے والی دو فرینڈز جن کی لیکچرار سر احمد ندیم قاسمی صاحب کی دختر تھیں وہ میری تحاریر پڑھ کر کافی خوش تھیں اور میری حوصلہ افزائی کرتی رہتی تھیں ۔۔۔ گریجویشن کے بعد میں نے باقاعدہ صوفیانہ کلام لکھنا شروع کر دیے چونکہ عروض سے واقفیت نہیں تھی تو ان کو کبھی پوسٹ نہیں کیا مگر لکھنے کا سلسلہ جاری رکھا۔۔ گذشتہ سال لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک شاعر جناب محمد بنیامین ایڈوکیٹ نے میری کچھ پوسٹ ہوئی تحاریر کو سراہا اور مجھے انہی سے عروض سیکھنے کی صلاح دی جس کو میں نے اپنی خوش نصیبی جانا۔۔ اور تقریباً ایک مہینے ان کی بھرپور توجہ اور اپنی محنت سے کافی حد تک عروض پر رسائی حاصل کی۔۔ اور باقاعدہ باوزن اور بامقصد اشعار کہنے لگی انہوں نے مجھے نت نئی مشکل آسان ہر بحر اتنی خوبصورتی سے سمجھائی کہ میرے لیے سب آسان ہوتا چلا گیا ۔۔۔ پھر میرے اشعار کی بُنت روانی اور ردھم ایک اور استاد کی شفقت سے بہتر سے بہتر ہوتی جا رہی ہے اور ان شاءاللہ میں بہت جلد اپنے اساتذہ کے لیے فخر کا باعث بنوں گی۔۔اللہ پاک ان دونوں محترم ہستیوں کو رہتی دنیا تک چمکدار اورسرسبز وشاداب رکھے آمین فارحہ نوید