مجھ کو ہی نہیں اسکو بھی

کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل

مجھ کو ہی نہیں اسکو بھی ادراک بڑا ہے
معصوم نظر آ رہا چالاک بڑا ہے

سو بار ، بناتے ہوئے توڑا گیا کوزہ
یہ دستِ ہنر مند بھی سفاک بڑا ہے

کچھ بھی نہیں ہوتا ہے تو کچھ ہوتا ہے پھر بھی
بے گھر کے لیے سایہ ء افلاک بڑا ہے

پیمانہ بڑائی کا یہاں پیسہ نہیں ہے
جو خود کو بڑا کہتا ہے کیا خاک بڑا ہے ؟

مجھ چوٹ زدہ کے کوئی نزدیک نہ آئے
ٹوٹا ہوا یہ شیشہ خطرناک بڑا ہے

کومل جوئیہ

کرن شہزادی

سلام اردو ایڈیٹر