محبّت ایسی عبادت کسک پہ ختم ہوئی

شاہد ذکی کی ایک اردو غزل

محبّت ایسی عبادت کسک پہ ختم ہوئی
شروع حق سے ہوئی اور شک پہ ختم ہوئی

میں اپنی روح کی تمثیل کی تلاش میں تھا
مری تلاش تمہاری مہک پہ ختم ہوئی

وہ خامشی جو کسی اور خامشی میں ڈھلی
کوئی سڑک تھی جو اگلی سڑک پہ ختم ہوئی

اک ابتلا تھی جسے لمس کی کشش کہیے
اک اشتہا تھی جو آب و نمک پہ ختم ہوئی

سیاہی چیخی , ذرا دوسری طرف دیکھو
جب آئنے کی کہانی چمک پہ ختم ہوئی

کہا کہ آتش _ تخلیق مجھ پہ ظاہر ہو
گھٹا دھنویں سے اٹھی اور دھنک پہ ختم ہوئی

مرا ہی عجز مرا آخری شکاری تھا
مری تنی ہوئی گردن لچک پہ ختم ہوئی

وہ رات جس میں سبھی صبحیں جڑ چکا تھا میں
تمہاری نیند کی پہلی جھپک پہ ختم ہوئی

حیات و موت کی تفصیل کیا کہوں شاہد
زمیں سے بات چلی تھی فلک پہ ختم ہوئی

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔