موڑ موڑ گھبرایا گام گام دہلا میں

ایک اردو غزل از جلیل عالی

موڑ موڑ گھبرایا گام گام دہلا میں

جانے کن خرابوں کے راستوں پہ نکلا میں

سطح آب کہہ پائے کیا تہوں کے افسانے

سامع لب ساحل بحر سے بھی گہرا میں

اور کچھ تقاضے کا سلسلہ چلے یارو

پل میں کیسے من جاؤں مدتوں کا روٹھا میں

وہ کہ ہے مرا اپنا حرف مدعا اس کو

غیر کے حوالے سے کس طرح سمجھتا میں

جانے جذب ہو جاؤں کب فضا کے آنچل میں

ساعتوں کی آنکھوں سے اشک بن کے ڈھلکا میں

ایک روز تو گرتیں فاصلوں کی دیواریں

ایک روز تو اپنے ساتھ ساتھ چلتا میں

کون ہے مرا قاتل کس کا نام لوں عالیؔ

اپنی ہی وفاؤں کے پانیوں میں ڈوبا میں

 

جلیل عالی

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔