ملا ہے مجھ کو پڑاؤ سفر بناتا ہوا

سلیم فگار کی ایک اردو غزل

ملا ہے مجھ کو پڑاؤ سفر بناتا ہوا
میں چل رہا ہوں نئی رہ گزر بناتا ہوا

ازل سے ڈھونڈ رہا ہوں میں اپنی ہستی کو
ِبنائے حرف و ہنر کو نظر بناتا ہوا

نہ پوچھ کیا ہے پسِ گردِ کاروانِ حیات
گزر گیا ہے مجھے اک خبر بناتا ہوا

یہ تیرا ہجر کہ جیسے سلاخ پگھلی ہوئی
عزیز تر ہے مجھے بے بصر بناتا ہوا

نہ پوچھ مجھ سے بسے گھر کی رونقیں کیا ہیں
کہ میں تو رہ گیا باہر ہی در بناتا ہوا

یہ کیا طلسم کہ صحرا کی جلتی ریتوں میں
فگار ڈوب گیا ہوں بھنور بناتا ہوا

سلیم فگار

سلیم فگار

السلام علیکم ! میرا پورا نام محمد سلیم ہے قلمی نام سلیم فگار ہے- تعلق جہلم سے ہے - میرے تین شعری مجموعے ہیں - ستارہ سی کوئی شام - سنِ اشاعت مارچ دو ہزار پندرہ- تغیر۔ سنِ اشاعت ستمبر دوہزار انیس- خواب کی اذیت میں۔ سنِ اشاعت جنوری دوہزار چھبیس-