ملا ہے مجھ کو پڑاؤ سفر بناتا ہوا
میں چل رہا ہوں نئی رہ گزر بناتا ہوا
ازل سے ڈھونڈ رہا ہوں میں اپنی ہستی کو
ِبنائے حرف و ہنر کو نظر بناتا ہوا
نہ پوچھ کیا ہے پسِ گردِ کاروانِ حیات
گزر گیا ہے مجھے اک خبر بناتا ہوا
یہ تیرا ہجر کہ جیسے سلاخ پگھلی ہوئی
عزیز تر ہے مجھے بے بصر بناتا ہوا
نہ پوچھ مجھ سے بسے گھر کی رونقیں کیا ہیں
کہ میں تو رہ گیا باہر ہی در بناتا ہوا
یہ کیا طلسم کہ صحرا کی جلتی ریتوں میں
فگار ڈوب گیا ہوں بھنور بناتا ہوا
سلیم فگار