محبوب محبت سے نہیں قسمت سے ملا کرتا ہے
یہ وہ نایاب ہے جو بڑی اجرت سے ملا کرتا ہے
اور میں نے جن پر جان لوٹائیں تھی کبھی
اب میرا ہر وہ دوست ضرورت سے ملا کرتا ہے
شہزادی داستانیں غم پر غور کیوں کرتی
یہ وہ دکھ ہے جو غربت سے ملا کرتا ہے
کوئی تو فعال نکال میرے زخموں کی
اس شہر میں چارہگر بھی فرقت سے ملا کرتا ہے
خاک اتری ہے اب میرے دست ہنر میں
ہجر کے بعد دل، ہر غم سے فرصت سے ملا کرتا ہے
نگار فاطمہ انصاری