موت سے پہلے

ایک افسانچہ از منزہ انور گوئیندی

وہ جو موت سے پہلے مر چکے ہیں ۔۔ آخر کیوں زندہ ہیں ۔ انسان کبھی نہیں مرتا ۔۔۔ موت کے بعد بھی نہیں ، روح غیر فانی ہے اور یہ کبھی نہیں مر سکتی ! اگر روح مر جائے تو پھر انسانیت کیسے زندہ رہ سکتی ہے ۔۔۔ روح کے بغیر آخر زندگی کا مقصد کیا رہ جاتا ہے ۔ محض جسم کی حرکت کا نام تو زندگی نہیں ۔۔۔ مگر وہ جو روحانی طور پہ مر چکے ہیں ،،، وہ جسمانی طور پر کیوں زندہ ہیں ۔ یہ ویران کمرے جن کے روزن تک بند ہیں اور در و دیوار پر خامشی کی مہریں ثبت ہیں ۔۔۔ جن کی کھڑکیوں کے کان بہرے ہیں ۔ بوسیدہ دروازوں کے کواڑوں کی زبانیں گنگ ہیں اور فرشوں پر ظلمتوں کے عفریت خیمہ زن ہیں ۔۔۔ یہاں جسموں کے مرقد اور روحوں کے مدفن ہیں ۔۔۔ کمرے کے باہر انسانی قدموں کی آہٹ اور ان گنت ملی جلی صداؤں کا رس جنہیں سن سکتے ہیں محسوس کر سکتے ہیں ۔۔ کیا یہ اس بات کا ثبوت تو نہیں کہ وہ زندہ ہیں ۔۔ ابھی تھوڑی دیر میں بادل زور زور سے گرجیں گے ۔۔ آسمان اور زمین کی بنیادیں دہل جائیں گی ۔۔۔ بہت کچھ ھو گا ۔۔ مگر وہ صدیوں سے مقفل ان دروازوں کو نہیں کھولیں گے ۔۔ کالی ہوا کا جھونکا یہ بات سمجھا گیا ہے کہ آسمان پر چمکنے والی بجلی کی روشن آنکھوں میں زندگی کی آخری ہچکی ہے ۔۔ پاگل بادلوں کی گھن گرج میں موت کی آواز سن کر بھی وہ زندہ رہیں گے وہ جو زندہ ہوتے ہوئے بھی روحانی طور پر مردہ ہیں

منزہ انور گوئیندی

منزہ انور گوئیندی

تعارف منزہ انور گوئیندی کا تعلق ادبی گھرانے سے ہے ان کے والد انور گوئیندی کا شمار مشاہیر ادب میں ھوتا ھے اور وہ اردو ادب کے بانیوں میں سے ھیں ۔ سرگودھا میں کامران مشاعرے اور کامران رسالے کے ذریعے انہوں نے ادب کی آبیاری کی ان کی وفات کے بعد یہ مسند ان کی اکلوتی بیٹی منزہ انور گوئیُندی نے سنبھالی جو ایک نامور افسانہ نگار ، کالم نگار اور شاعرہ ھونے کے ساتھ ساتھ کامران ادبی رسالہ کی مدیرہ بھی ہیں ۔ منزہ انور گوئیندی عالمی شہرت یافتہ قلمکار اور صدا کار ہیں ۔ گزشتہ بیس سال سے ریڈیو پاکستان سے منسلک ھیں اور علمی و ادبی پروگرام پیش کر رہی ھیں ۔ منزہ انور گوئیُندی کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کئی ایوارڈز اور اعزازات اور میڈلز دیے جا چکے گئے ھیں ۔ حال ھی میں دورہ برطانیہ کے دوران انہیں سفیر ادب کا خطاب بھی عطا کیا گیا ۔ اور ان کے اعزاز میں سکاٹ لینڈ بین الاقوامی مشاعرے کا انعقاد بھی کیا گیا منزہ گوئیندی کے خاندان کا شمار کارکنان تحریک پاکستان میں ھوتا ھے اور اس ضمن میں انہیں سابق صدر پاکستان عارف علوی کی جانب سے گولڈ میڈل بھی دیا گیا