موت جس وقت آئیگی مجھ کو
زندگی خواب بُن رہی ہوگی
وہ جو بچھڑا ہے بیچ رستے میں
اس کی منزل بدل گئی ہوگی
تیرے لہجے سے لگ رہا ہے مجھے
یہ ملاقات آخری ہوگی
دکھ رہے گا ترے بچھڑنے کا
اور اداسی بھی دائمی ہوگی
کچھ نہیں ہوگا تیرے بعد یہاں
کچھ نہیں ہوگا ، خامشی ہوگی
دشت آواز دے رہا ہے مجھے
میری قسمت میں بے گھری ہوگی
زین محکم