مرد کے حصے کا ہجر

میر حسن کا ایک اردو کالم

چھٹی ختم ہونے والی ہے۔ ایک باپ اپنا سامان باندھ رہا ہے۔ گھر میں سب جانتے ہیں کہ اسے واپس جانا ہے، مگر کوئی چاہتا نہیں کہ وہ جائے۔
بیٹی پوچھتی ہے، ”ابو، اب کب آئیں گے؟”
وہ کہتا ہے، ”جلد آؤں گا، میری جان۔”
حالانکہ اسے خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اگلی چھٹی کب ملے گی۔ کب اتنے پیسے جمع ہوں گے کہ دوبارہ گھر آنے کا سفر کر سکے گا۔
سامان باندھتے ہوئے شاید اس کا دل بھی چاہتا ہوگا کہ اس بار نہ جائے۔ کچھ دن اور اپنے بچوں کے ساتھ گزار لے، والدین کے پاس بیٹھے، گھر کی زندگی میں شریک رہے۔ مگر اگلے مہینے کے اخراجات بھی اسی کے انتظار میں ہیں۔
اس لیے وہ اپنا بیگ اٹھاتا ہے اور ایک بار پھر گھر سے نکل جاتا ہے۔

میں جب ایسے مردوں کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرے ذہن میں ایک سوال آتا ہے۔
آخر مرد کے لیے گھر کا مطلب کیا ہے؟
گھر کس کا؟
انسان پیدا ہوتا ہے تو گھر ہی اس کی پہلی دنیا ہوتی ہے۔ ماں باپ، بہن بھائی، بچپن کی شرارتیں، سکول کے دن اور پھر جوانی۔ زندگی کے کتنے ہی سال اسی چھت کے نیچے گزر جاتے ہیں۔
اس وقت کسی کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ ایک دن اسی گھر میں رہنے کے لیے بھی وقت نکالنا مشکل ہو جائے گا۔
ہمارے معاشرے میں اکثر کہا جاتا ہے کہ عورت کا اپنا کوئی گھر نہیں ہوتا۔ پہلے باپ کا گھر، پھر شادی کے بعد شوہر کا گھر۔
میں اس بات کو کبھی کبھی ایک دوسرے زاویے سے دیکھتا ہوں۔ عورت کی زندگی میں کم از کم دو گھروں سے تعلق تو ہوتا ہے، ایک میکہ اور دوسرا سسرال۔ یہ الگ بات ہے کہ ہر عورت کو دونوں جگہ وہ عزت، محبت اور اپنا پن نہیں ملتا جس کی وہ حقدار ہے۔
مگر مرد کی زندگی بھی کچھ کم عجیب نہیں۔
اس کے پاس گھر ہوتا ہے، گھر والے ہوتے ہیں، اپنا کمرہ اور اپنی چیزیں بھی ہوتی ہیں، لیکن جوانی کے بعد اسی گھر میں گزارنے کے لیے وقت کم پڑنے لگتا ہے۔
پہلے والدین کی ذمہ داریاں، پھر شادی، بیوی اور بچوں کی ضروریات۔ رفتہ رفتہ وہ گھر جس میں اس نے اپنا بچپن گزارا تھا، اس کی محنت کا مقصد بن جاتا ہے۔
وہ اسی گھر کے لیے کماتا ہے، مگر اکثر اسی سے دور رہتا ہے۔
روزگار کی قیمت
اگر کسی مرد کو اپنے شہر میں کام مل جائے تو یہ بھی ایک سہولت ہے۔ صبح نکلتا ہے، دن بھر محنت کرتا ہے اور شام کو گھر واپس آ جاتا ہے۔ تھکن اپنی جگہ، مگر کم از کم اپنے گھر والوں کی صورت تو دیکھ لیتا ہے۔
بے وقت اگر جاؤں گا سب چونک پڑیں گےاک عمر ہوئی دن میں کبھی گھر نہیں دیکھابشیر بدر
لیکن ہر کسی کو یہ سہولت کہاں نصیب ہوتی ہے؟
روزگار کی تلاش کسی کو دوسرے شہر لے جاتی ہے اور کسی کو دوسرے ملک۔ وہاں ایک کرائے کا کمرہ ہوتا ہے، چند ضروری چیزیں اور دن بھر کی مزدوری۔
کام سے واپس آ کر بھی اس کے کام ختم نہیں ہوتے۔ کھانا بنانا ہے، کپڑے دھونے ہیں، کمرہ سنبھالنا ہے اور اگلی صبح پھر کام پر جانا ہے۔
بعض اوقات صبح ناشتہ کرنے کا وقت نہیں ملتا۔ کبھی پیسے بچانے کی فکر ہوتی ہے۔ وہ خالی پیٹ کام پر چلا جاتا ہے اور دن بھر محنت کرتا رہتا ہے۔
شام کو واپس آتا ہے تو بھوک لگی ہوتی ہے، مگر تھکن اتنی ہوتی ہے کہ کھانا بنانے کی ہمت نہیں رہتی۔ کبھی چائے پی کر سو جاتا ہے اور کبھی کچھ کھائے بغیر ہی نیند آ جاتی ہے۔
یہ ہر مرد کی زندگی نہیں، لیکن بہت سے محنت کش مرد ایسے دن ضرور گزارتے ہیں۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک شخص اپنی ضرورتیں پوری کرنے میں بھی اتنی مشکل اٹھا رہا ہے، پھر بھی ہر مہینے گھر پیسے بھیجنے کی فکر اسے اپنی فکر سے زیادہ ہوتی ہے۔
اسے معلوم ہے کہ والدین کی دوائیں لینی ہیں، بچوں کی فیس دینی ہے، گھر کا راشن آنا ہے اور کئی ایسے اخراجات ہیں جو اس کے بغیر پورے نہیں ہوں گے۔
ہر باپ کے پاس اتنے وسائل نہیں ہوتے کہ وہ اپنی اولاد کو مہنگے سکولوں میں پڑھا سکے یا اس کی ہر خواہش پوری کر سکے۔
لیکن وہ اپنی استطاعت کے مطابق کوشش ضرور کرتا ہے۔
ممکن ہے اس کے اپنے جوتے پرانے ہوں، مگر بچوں کے جوتے اچھے دیکھنا چاہتا ہے۔ خود کئی مہینوں سے نئے کپڑے نہ خریدے ہوں، مگر عید پر بچوں کے کپڑوں کی فکر اسے پہلے ہوتی ہے۔
کبھی اپنی کوئی چیز خریدنے کا سوچتا بھی ہوگا، مگر پھر گھر کی کوئی ضرورت یاد آ جاتی ہے۔
وہ اپنی خواہش اگلے مہینے پر چھوڑ دیتا ہے۔
اور بعض خواہشوں کے لیے وہ اگلا مہینہ کبھی نہیں آتا۔
مجھے لگتا ہے ایک باپ کی محبت کا بڑا حصہ ایسی ہی چھوٹی چھوٹی قربانیوں میں چھپا ہوتا ہے جن کا وہ کسی سے ذکر بھی نہیں کرتا۔
اپنی اپنی ذمہ داریاں
یہاں عورت کی محنت اور ذمہ داریوں کو نظرانداز کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔
عورت اللہ رب العزت کی عظیم تخلیق ہے۔ ایک ماں اپنے بچوں کی پرورش کرتی ہے، انہیں زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتی ہے، اچھے برے کی پہچان دیتی ہے۔ اس کی تربیت کا اثر صرف بچوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ آنے والی نسلوں تک پہنچ سکتا ہے۔
گھر کے معاملات سنبھالنا، بچوں کی بیماری، تعلیم اور روزمرہ کی ضروریات کا خیال رکھنا بھی آسان نہیں۔ بہت سی عورتیں ان ذمہ داریوں کے ساتھ ملازمت بھی کرتی ہیں اور خاندان کی کفالت میں حصہ ڈالتی ہیں۔
اس لیے میں اسے مرد اور عورت کی قربانیوں کا مقابلہ نہیں سمجھتا۔
دونوں کی اپنی مشکلات ہیں۔ دونوں اپنے اپنے حصے کی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
میں صرف مرد کی زندگی کے ایک ایسے دکھ کی بات کرنا چاہتا ہوں جو اکثر اس کی کمائی اور ذمہ داریوں کے ذکر میں کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔
اپنوں سے دور رہنے کا دکھ۔
کمانے والے مرد کو عموماً اس کی تنخواہ یا مزدوری کے حساب سے دیکھا جاتا ہے۔ اس نے کتنے پیسے کمائے، گھر کتنے بھیجے، بچوں کے لیے کیا خریدا۔
مگر ان پیسوں کے پیچھے اس کی زندگی کا کتنا وقت گزرا، یہ حساب کم ہی لگایا جاتا ہے۔
وہ وقت جو اپنے والدین کے ساتھ گزار سکتا تھا۔ وہ شامیں جن میں بچوں کے ساتھ کھیل سکتا تھا۔ گھر کی وہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں جن میں اس کی موجودگی بھی ہونی چاہیے تھی۔
فاصلے کی زندگی
پردیس میں رہنے والے ایک باپ کے لیے گھر کی بہت سی باتیں فون تک محدود ہو جاتی ہیں۔
بچے نے سکول جانا شروع کیا تو تصویر آ گئی۔ کوئی انعام ملا تو ویڈیو آ گئی۔ گھر میں کسی کی طبیعت خراب ہوئی تو فون پر خبر مل گئی۔
وہ خوش بھی ہوتا ہے، پریشان بھی، مگر ہر موقع پر گھر پہنچنا اس کے اختیار میں نہیں ہوتا۔
کبھی عید آ جاتی ہے، کبھی بچے کی سالگرہ، کبھی گھر میں کوئی تقریب۔ وہ سب کے لیے کچھ نہ کچھ بھیج دیتا ہے، مگر خود موجود نہیں ہو پاتا۔
ماں باپ کی عمر بھی بڑھ رہی ہوتی ہے۔
جنہوں نے اسے بچپن میں چلنا سکھایا تھا، اب ان کے قدم آہستہ ہونے لگتے ہیں۔ وہ ان کے پاس بیٹھنا چاہتا ہے، ان کی باتیں سننا چاہتا ہے، مگر اکثر یہ سب بھی فون پر ہی ہو پاتا ہے۔
مجھے اس زندگی کی سب سے مشکل بات یہی لگتی ہے۔
ایک طرف وہ لوگ ہیں جن سے وہ محبت کرتا ہے، دوسری طرف وہ ذمہ داریاں ہیں جنہیں چھوڑ نہیں سکتا۔
گھر میں رہنا چاہتا ہے تو روزگار کی فکر سامنے آ جاتی ہے۔ روزگار کے لیے نکلتا ہے تو گھر کی یاد ساتھ چل پڑتی ہے۔
یوں سال گزرتے رہتے ہیں۔
بچے بڑے ہونے لگتے ہیں۔ والدین بوڑھے ہو جاتے ہیں۔ گھر کی بہت سی باتیں بدل جاتی ہیں۔
اور وہ شخص اب بھی اسی کوشش میں مصروف ہوتا ہے کہ اس کے گھر والوں کو کسی چیز کی کمی نہ ہو۔
کبھی چند دن کی چھٹی لے کر گھر آتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ بچے پہلے سے بڑے ہو گئے ہیں۔ ان کی عادتیں بدل گئی ہیں، باتیں بدل گئی ہیں۔ گھر میں بھی کچھ نیا ہو چکا ہوتا ہے۔
وہ سب کے درمیان بیٹھا ہوتا ہے، مگر شاید دل ہی دل میں سوچ رہا ہوتا ہے کہ ان کی زندگی کے کتنے دن اس کے بغیر گزر گئے۔
پھر چھٹی ختم ہو جاتی ہے۔
ایک بار پھر سامان باندھنا پڑتا ہے۔
بچوں کو پیار کرکے، والدین سے مل کر اور گھر والوں کو تسلی دے کر وہ واپس روانہ ہو جاتا ہے۔
اسے معلوم ہے کہ یہ سفر کیوں ضروری ہے، مگر اس سے جدائی آسان تو نہیں ہو جاتی۔
جو وقت لوٹتا نہیں
مجھے نہیں لگتا کہ ہر مرد کی خواہش بہت زیادہ دولت، بڑے گھر یا مہنگی گاڑی کی ہوتی ہے۔
بہت سے مرد تو شاید ایک معمول کی زندگی چاہتے ہیں۔
صبح اپنے گھر میں آنکھ کھلے۔ ماں باپ کی خیریت پوچھیں، بچوں کے ساتھ ناشتہ کریں، دن بھر کام کریں اور شام کو واپس انہی لوگوں کے پاس آ جائیں جن کے لیے سارا دن محنت کی ہے۔
سننے میں یہ بہت معمولی سی خواہش لگتی ہے۔
مگر ہر کسی کے لیے اسے پورا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
کسی کو اپنا شہر چھوڑنا پڑتا ہے، کسی کو اپنا ملک۔ کوئی چند مہینوں کے لیے جاتا ہے اور پھر برسوں وہیں رہ جاتا ہے۔
”زیادہ تر لوگ شوق سے نہیں بلکہ روزگار اور مجبوریوں کی وجہ سے اپنا گھر چھوڑتے ہیں۔ برسوں گھر سے دور رہنے کے بعد جب میں اپنے ان دوستوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے وہ سب جیت گئے۔”ذاکر خان
اور ایک دن اس کی زندگی میں ایسا وقت بھی آتا ہے جب ذمہ داریاں کچھ کم ہونے لگتی ہیں۔
بچے پڑھ لکھ کر اپنے پیروں پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ قرض اتر جاتے ہیں۔ گھر کے حالات پہلے سے بہتر ہو جاتے ہیں۔
اب وہ سوچتا ہے کہ بہت کام کر لیا، کچھ وقت گھر والوں کے ساتھ بھی گزارنا چاہیے۔
مگر تب تک زندگی کا بڑا حصہ گزر چکا ہوتا ہے۔
بچے بڑے ہو چکے ہوتے ہیں۔ جن ماں باپ کے ساتھ بیٹھنے کی خواہش تھی، ان کی عمریں ڈھل چکی ہوتی ہیں۔ بعض اوقات تو وہ اس دنیا میں بھی نہیں رہتے۔
گھر وہی ہوتا ہے، مگر اس میں زندگی پہلے جیسی نہیں رہتی۔
یہ خیال مجھے بہت اداس کرتا ہے۔
ایک شخص جس نے اپنے بچوں کی تعلیم، ان کے کپڑوں، گھر کے راشن اور والدین کی ضروریات کے لیے اپنی زندگی کے بہترین سال محنت میں گزار دیے، جب اسے کچھ فرصت ملتی ہے تو وہی سال واپس نہیں ملتے۔
اس نے جو کمایا، وہ گھر والوں کے کام آیا۔ اس کی محنت سے ان کی زندگی بہتر ہوئی۔ شاید بچے وہاں تک پہنچ گئے جہاں تک وہ خود نہیں پہنچ سکا تھا۔
مگر وہ ان کے بچپن میں واپس نہیں جا سکتا۔
نہ ان شاموں میں جب بچے اس کے ساتھ کھیلنا چاہتے تھے، نہ ان صبحوں میں جب ماں باپ اس کے ساتھ بیٹھ کر چائے پینا چاہتے تھے۔
اور اس سب میں ضروری نہیں کہ گھر والے اس کی قربانیوں سے بے خبر ہوں۔ وہ بھی اس کی کمی محسوس کرتے ہوں گے، اس کے آنے کے دن گنتے ہوں گے۔
مگر دوری اپنی جگہ رہتی ہے۔
میں یہ نہیں کہتا کہ مرد کا کوئی گھر نہیں ہوتا۔
اس کا گھر ہوتا ہے۔ اسی گھر میں اس کی محبتیں ہوتی ہیں، اس کے اپنے لوگ ہوتے ہیں، اس کی زندگی کا سب سے قیمتی حصہ ہوتا ہے۔
بس حالات بعض اوقات اسے اسی گھر سے دور رہنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
اور جب میں اس بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے مرد کی غربت صرف پیسوں کی کمی نہیں لگتی۔
کبھی کبھی ایک آدمی کے پاس اپنے گھر والوں کے لیے سب کچھ ہوتا ہے، سوائے ان کے ساتھ گزارنے کے وقت کے۔
وہ ساری عمر گھر پیسے بھیجتا رہتا ہے۔ کبھی اپنی کمائی کا بڑا حصہ، کبھی اپنی ضرورتیں کم کرکے۔
کاش وہ ان پیسوں کے ساتھ اپنے بچوں کے لیے چند شامیں، والدین کے لیے چند صبحیں اور گھر والوں کے لیے اپنی زندگی کے کچھ گزرے ہوئے دن بھی بھیج سکتا۔
مگر وقت کہاں بھیجا جا سکتا ہے؟
اور پھر جب کبھی برسوں بعد وہ اپنے گھر میں مستقل رہنے کے لیے لوٹتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ جس زندگی کو بہتر بنانے کے لیے وہ گھر سے دور رہا، اس کا کتنا حصہ اس کی غیر موجودگی میں گزر گیا۔
شاید مرد کے حصے کا سب سے بڑا ہجر یہی ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کا مستقبل سنوارنے میں اپنا وہ وقت گزار دیتا ہے جو ان کے ساتھ اس کا اپنا بھی تھا۔

میر حسنؔ

میر حسن

میرا نام حسنؔ ہے، جو کہ میرا ہی انتخاب ہے، تعلق منڈی بہاؤالدین، پنجاب سے ہے۔مادری زبان پنجابی ہے، مگر اردو سے بھی محبت ہے اور احساسات کو شعر میں ڈھالنے کا شوق۔ جو بات زبان کہنے سے رہ جائے، اسے قلم کے سپرد کر دیتا ہوں۔ محبت، ہجر اور زندگی کے اَن کہے احساسات میری شاعری کا محور ہیں۔