مہینہ دسمبر کا

ایک اردو غزل از رشید حسرت

لگی ہے دِل کو وِیرانی، دسمبر کے مہِینے میں
نہ تھی ایسی پشیمانی، دسمبر کے مہِینےمیں

نہ توڑو گے نومبر میں، کیا تھا جُون میں وعدہ
کریں گے ہم نگہبانی، دسمبر کے مہِینے میں

نجانے کِتنی صدیوں سے تُمہارا ہِجر اوڑھے ہیں
نِکالو راہ احسانی دسمبر کے مہِینے میں

اگرچہ چین پہلے بھی مُیسّر تو نہ تھا ہم کو
اِدھر غم میں فراوانی، دسمبر کے مہِینے میں

کِیا رُسوا زمانے میں، ہمیں دِل کی تمنّا نے
کرے ہے راج حیرانی دسمبر کے مہِینے میں

بڑے ہی شوق سے گرمی میں یہ ٹھہریں خُراسانی
ولے لوٹیں گے بولانی، دسمبر کے مہِینے میں

بھلے دن کاٹ لو گے حلقۂِ احباب میں حسرتؔ
مگر راتیں ہیں طُولانی، دسمبر کے مہِینے میں

رشِید حسرتؔ

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔