کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی
کر گئ خسارہ اک تاجرانہ خاموشی،
یہ بھی اک قیامت ہے ظلم کی حمایت ہے ،
مصلحت میں لپٹی یہ جابرانہ خاموشی
زندگی کا حاصل بس ایک تلخ سچّائ
آب و دانہ ہنگامہ ، آب و دانہ خاموشی
شہر بھر میں پھیلا ہے جان لیوا سنّاٹا
ہر گلی میں رقصاں ہے وحشیانہ خاموشی
خونِ بے گناہی کا کب حساب مانگے گی
مومنوں کے ہونٹوں کی کافرانہ خاموشی
اک طرف زمانے کا شور اور ہنگامہ
اک طرف محبت کی عاجزانہ خاموشی ،
قیمتی لباسوں سے شخصیت نہیں بنتی
لاکھ پیرہن بدلے شاطرانہ خاموشی
سچ کا نام مت لینا سچ کی بات مت کرنا
اوڑھ لی سیاست نے قاتلانہ خاموشی
صبر کا یہ پیمانہ ایک دن چھلکے گا
ہے قیامتِ بے جا اک زمانہ خاموشی
ایک دن زمانے کو راستہ دکھائے گی
صوفیانہ گویائ، عارفانہ خاموشی
اِس طرف نصیحت میں ڈانٹنا بزرگوں کا
اُس طرف جوانی کی باغیانہ خاموشی
گفتگو میں نغموں کی سازشوں کی جھنکاریں
فکرِ شر نوازی میں شاعرانہ خاموشی
نظم کی ردا اوڑھے یا غزل میں ڈھل جائے
کاش ٹوٹ جائے یہ طارقانہ خاموشی
طارق قمر