کیوں میں تیری دہائی دینے لگا شہر کیسا دکھائی دینے لگا
لو غم آشنائی دینے لگا میں جہاں کو دکھائی دینے لگا
اے خیال ہجوم ہم سفراں تو بھی داغ جدائی دینے لگا
کون اندر سے اٹھ گیا باقیؔ شور دل کا سنائی دینے لگا
باقی صدیقی
ایک اردو غزل از اویس خالؔد
ایک اردو نظم از احمد حجازی
ایم اے دوشی کی ایک اردو غزل