کوئی لذت نہ شوخی

شہزین فراز کی ایک اردو غزل

کوئی لذت نہ شوخی نہ سوغات سے
اہلِ دل جیت لیتے ہیں دل مات سے

وقت جب بھی دبوچے شکنجے میں تو
کون بچ پاتا ہےیار پھر گھات سے

گر تقابل کراؤ گے رشتوں سے تم
ہار جائیں گے جدّت کے آلات سے

ساری دنیا کے دھندے اجالوں کے ہیں
دوستی ہم نےکر لی مگر رات سے

آسمانوں کی وسعت سا چاہا تمہیں
چاہتوں کو مری ضرب دو سات سے

کس قدر منفرد عشق کی بولیاں
کیوں خرابی پڑے ان میں خدشات سے

جیسے بنتی ہے ویسے بگڑتی بھی ہے
بات گر جو نکالو گے تم بات سے

تم پہ واجب ہے اب مجھ کو حیراں کرو
میری شہرت چراؤ مرے ہات سے

شہزین فراز

شہزین وفا فراز

میرا‌ نام شہزین وفا فراز ہے۔ میں ایک شاعرہ ہوں۔ بنیادی تعلق حیدرآباد سے ہے لیکن طویل عرصے سے کراچی میں مقیم ہوں۔ ماسٹرز کی تعلیم حیدرآباد سے لی۔ درس و تدریس کے شعبے سے وابستگی رہی۔ شعر کہنے کا آغاز گیارہ سال کی عمر سے کیا۔ کلام باقاعدہ اخبارات و رسائل میں شائع کروانے کا سلسلہ ٢٠٢٢ سے شروع ہوا اور اب تک جاری ہے۔ تین انتخابی کتب "ہم صورت گر کچھ خوابوں کے”، "لطیفے جذبے” اور "سخن آباد” میں میرا کلام شامل ہے۔ اس کے علاوہ حال ہی میں نئ دہلی (انڈیا) سے ایک معروف مصنف رضوان لطیف خانصاحب کی کتاب "تذکرۂ سخنوراں” میں معروف شاعر جناب عبداللہ خالد صاحب کے مختلف مصارع پر طرحی کلام کہنے والے شعراء و شاعرات میں میرا‌ نام‌ بھی شامل کیا گیا ہے الحمداللہ۔