کوئی غل ہوا تھا نہ شور خزاں

آشفتہ چنگیزی کی ایک اردو غزل

کوئی غل ہوا تھا نہ شور خزاں
اجڑنے لگیں خود بہ خود بستیاں

جسے دیکھنے گھر سے نکلے تھے ہم
دھواں ہو گیا شام کا وہ سماں

سبھی کچھ تو دریا بہا لے گیا
تجھے اور کیا چاہئے آسماں

بس اک دھند ہے اور کچھ بھی نہیں
روانہ ہوئی تھیں جدھر کشتیاں

ابھی طے شدہ کوئی جادہ نہیں
ابھی تک بھٹکتے ہیں سب کارواں

یہی اک خبر گرم تھی شہر میں
کہ اک شوخ بچے نے کھینچی کماں

تماشا دکھا کے گئی صبح نو
خموشی ہے پھر سے وہی درمیاں

تعارف مرا کوئی مشکل نہیں
میں آشفتہؔ چنگیزی ابن خزاں

آشفتہ چنگیزی

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔