کتنا چھپا کے رکھے کوئی دکھ پہاڑ سے
آنسو نکل ہی پڑتے ہیں پلکوں کی باڑ سے
بُجھتے ہوئے چراغ نے دیکھا ہے جس طرح
روئے گی عمر بھر ہوا لگ کر کواڑ سے
برسوں کے بعد آیا ہوں آبائی گھر میں آج
یہ کون رونے لگ گیا ہے ہر دراڑ سے
کن وحشتوں میں وقت لے آیا دھکیل کر
لگنے لگے ہیں کیوں سبھی منظر اُجاڑ سے
اتنی جگہ سے ٹوٹی پڑی ہے یہ زندگی
جیسے اٹھا کے لایا ہوں اس کو کباڑ سے
ہم دشت زاد لوگوں کو تحقیر سے نہ دیکھ
دریا کشید کر دیں گے پاؤں کے جھاڑ سے
ڈالی سے پھول ٹوٹ کے پاؤں میں آ گرا
تصویر دکھ سے بھر گئی تھوڑے بگاڑ سے
اک شخص جب سے بچھڑا ہے اندھے ہجوم میں
سچ پوچھو خوف آتا ہے ہر بھیڑ بھاڑ سے
میثم اب اُس کے بعد تو کوئی نہیں مِرا
اب کون پھول پھینکے گا کھڑکی کی آڑ سے
میثم علی آغا