کسی نے نہ دریا کے اسرار کھولے تلاطم بھی آئے سفینے بھی ڈولے
زمانے کا ہے کام تقلید کرنا مرے ساتھ ہولے، ترے ساتھ ہولے
دیا ہے یہ صیاد نے حکم باقیؔ قفس میں کوئی پر بھی اپنے نہ تولے
باقی صدیقی
نگار فاطمہ انصاری کی ایک اردو غزل
از پروفیسر اویس خالد
ایک اردو غزل از رشید حسرت
ایک اردو غزل از طارق قمر