کیوں گرفتار ِ حادثات رہی

روبینہ صدیق رانیؔ کی ایک اردو غزل

کیوں گرفتار ِ حادثات رہی
میں جو وقف ِ غم ِ حیات رہی

موت کا مرحلہ کہاں آئے
زندگی کی لبوں پہ بات رہی

کب یہ چاہا ملے نگاہ ِ کرم
کب میں محتاج ِ التفات رہی

میں اندھیروں کی ہو گئی عادی
میرے دن پہ بھی چھائی رات رہی

میں نے دنیا بسائی شعروں میں
میری اتنی ہی کائنات رہی

روؤں کیوں جیت کو میں اب رانیؔ
میری قسمت میں جبکہ مات رہی

روبینہ صدیق رانی

روبینہ صدیق رانی

نام روبینہ صدیق قلمی نام :روبینہ صدیق رانی 23 اپریل 1996روشنیوں کےشہر کراچی میں پیدا ہوئی اپنی ابتدائی تعلیم یہیں سے حاصل کی اور اپنی باقی زندگی بھی یہیں گزارنے کا ارادہ رکھتی ہوں ۔ شاعری کے ساتھ ساتھ نثر میں بھی طبع ازمائی کر چکی ہوں ۔ فی الحال کوئی شعری مجموعہ نہیں ۔