کیا تعجب کہ مری روح رواں تک پہنچے

جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل

کیا تعجب کہ مری روح رواں تک پہنچے
پہلے کوئی مرے نغموں کی زباں تک پہنچے

جب ہر اک شورش غم ضبط فغاں تک پہنچے
پھر خدا جانے یہ ہنگامہ کہاں تک پہنچے

آنکھ تک دل سے نہ آئے نہ زباں تک پہنچے
بات جس کی ہے اسی آفت جاں تک پہنچے

تو جہاں پر تھا بہت پہلے وہیں آج بھی ہے
دیکھ رندان خوش انفاس کہاں تک پہنچے

جو زمانے کو برا کہتے ہیں خود ہیں وہ برے
کاش یہ بات ترے گوش گراں تک پہنچے

بڑھ کے رندوں نے قدم حضرت واعظ کے لیے
گرتے پڑتے جو در پیر مغاں تک پہنچے

تو مرے حال پریشاں پہ بہت طنز نہ کر
اپنے گیسو بھی ذرا دیکھ کہاں تک پہنچے

ان کا جو فرض ہے وہ اہل سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

عشق کی چوٹ دکھانے میں کہیں آتی ہے
کچھ اشارے تھے کہ جو لفظ و بیاں تک پہنچے

جلوے بیتاب تھے جو پردۂ فطرت میں جگرؔ
خود تڑپ کر مری چشم نگراں تک پہنچے

جگر مراد آبادی

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔