خشک پتلی سے کوئی صورت نہ ٹھہرائی گئی

خورشید رضوی کی ایک اردو غزل

خشک پتلی سے کوئی صورت نہ ٹھہرائی گئی

آنکھ سے آنسو گئے میری کہ بینائی گئی

صبح دم کیا ڈھونڈتے ہو شب رووں کے نقش پا

جب سے اب تک بارہا موج صبا آئی گئی

رو رہا ہوں ہر پرانی چیز کو پہچان کر

جانے کس کی روح میرے روپ میں لائی گئی

مطمئن ہو دیکھ کر تم رنگ تصویر حیات

پھر وہ شاید وہ نہیں جو مجھ کو دکھلائی گئی

چلتے چلتے کان میں کس کی صدا آنے لگی

یوں لگا جیسے مری برسوں کی تنہائی گئی

ہم کہ اپنی راہ کا پتھر سمجھتے ہیں اسے

ہم سے جانے کس لیے دنیا نہ ٹھکرائی گئی

خورشید رضوی

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔