جس طرح لوگ خدا کی ہیں عبادت کرتے
ملتی فرصت تو اسی طرح محبت کرتے
ہم کسی قیس نہ فرہاد کے پیرو ہیں مگر
مذہب عشق میں اوروں کی امامت کرتے
کیسے مٹ پاتی بھلا ہجر و غمِ جاوید کی ٹیس
گر ترے وصل کی ہم تشنہ ریاضت کرتے
نورِ توحید سے روشن ہے تری چشمِ غزال
کاش اس نور سے ہم کسبِ بصارت کرتے
پھول بن جاتے کڑی دھوپ کے منظر سارے
گر تری زلف کے سائے میں اقامت کرتے
عقل رہ جاتی وہیں کوہِ مژہ کے نیچے
گر ترے حسن کی وادی کی سیاحت کرتے
طور جل جاتا مگر دید کی حسرت رہتی
گر ترے رخ سے کبھی رفعِ نقابت کرتے
تیری دہلیز پہ کٹ جاتی اگر عمرِ عزیز
پھر نہ ہم گردشِ دوراں کی شکایت کرتے
کعبہِ دل میں بسی ہوتی مروت کی فضا
گر ترے کوچے کی ہر روز زیارت کرتے
وقت تھم جاتا ترے ایک اشارے کے حضور
گر تری جنبشِ ابرو کی اطاعت کرتے
ڈاکٹر الیاس عاجزؔ