خواہش ہے آئینے پہ تجھے آئینہ کروں

ایک اردو غزل از ارشاد نیازی

خواہش ہے آئینے پہ تجھے آئینہ کروں
پر , حُسنِ بے بہا تری عجلت کا کیا کروں

بیکار ہو چکا ہوں ترے ہجر کے طفیل
اب تجھ کو انتظار میں کیا مبتلا کروں

کاغذ کی ایک ناؤ بناؤں اور اس کے بعد
دریا پہ اپنا غیض و غضب رونما کروں

پہلے تجھے ملاؤں کسی خواب زار سے
پھر صبح کی دلیل پہ آنکھیں فنا کروں

کچھ دیر بولنے کا اگر اہتمام ہو
میں لفظ کو لکیر کا بھی مدعا کروں

ارشاد نیازی

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔