خواب تھا خواب کی پرچھائی مرے ساتھ رہی

بشریٰ شہزادی کی ایک اردو غزل

خواب تھا خواب کی پرچھائی مرے ساتھ رہی
آنکھ میں جو نمی لہرائی مرے ساتھ رہی

آخری وقت سبھی چھوڑ گئے تنہا مجھے
آخری وقت یہ تنہائی مرے ساتھ رہی

میں پکاری کہ میں تنہا ہوں سرِ دشتِ حیات
آپ کی یاد چلی آئی مرے ساتھ رہی

یوں ہے کہ داغِ محبت یہ کبھی دھل نہ سکا
اُس گلی میں ہوئی رسوائی مرے ساتھ رہی

اپنے ہونے میں ہی غرقاب لئے پھرتی رہی
زخم کی سوچ کی گہرائی مرے ساتھ رہی

خواب در خواب میں اس نور میں ضم ہوتی گئی
اس کے نروان کی یکتائی مرے ساتھ رہی

دان کی درد کی دیوی نے مجھے ایسی وفا
عمر بھر میری ہی کہلائی مرے ساتھ رہی

بشریٰ شہزادی