خبر تو دور امین خبر نہیں آئے

آشفتہ چنگیزی کی ایک اردو غزل

خبر تو دور امین خبر نہیں آئے
بہت دنوں سے وہ لشکر ادھر نہیں آئے

یہ بات یاد رکھیں گے تلاشنے والے
جو اس سفر پہ گئے لوٹ کر نہیں آئے

طلسم اونگھتی راتوں کا توڑنے والے
وہ مخبران سحر پھر نظر نہیں آئے

ضرور تجھ سے بھی اک روز اوب جائیں گے
خدا کرے کہ تری رہ گزر نہیں آئے

سوال کرتی کئی آنکھیں منتظر ہیں یہاں
جواب آج بھی ہم سوچ کر نہیں آئے

اداس سونی سی چھت اور دو بجھی آنکھیں
کئی دنوں سے پھر آشفتہؔ گھر نہیں آئے

آشفتہ چنگیزی

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔