خار چن لے گا بہار ناز سے ہم ہیں واقف قلب دشت انداز سے
تیرے قصّوں نے پریشاں کر دیا ہم نہ تھے مانوس ہر آواز سے
یہ ابھرتے ڈوبتے چہرے تو دیکھ آشنا سے، غیر سے، دمساز سے
دام گلشن تک تو باقیؔ آ گئی بات چل کر حسرت پرواز سے
باقی صدیقی
غنی الرحمٰن انجم کی ایک اردو غزل
ایک اردو غزل از اویس خالؔد
ایک اردو نظم از احمد حجازی