خار چن لے گا بہار ناز سے ہم ہیں واقف قلب دشت انداز سے
تیرے قصّوں نے پریشاں کر دیا ہم نہ تھے مانوس ہر آواز سے
یہ ابھرتے ڈوبتے چہرے تو دیکھ آشنا سے، غیر سے، دمساز سے
دام گلشن تک تو باقیؔ آ گئی بات چل کر حسرت پرواز سے
باقی صدیقی
حسنین رافی کی ایک اردو غزل
میر حسن کی ایک اردو غزل
ایک اردو غزل از رشید حسرت