کیسی چلی ہے اب کے ہوا

خاطر غزنوی کی ایک اردو غزل

کیسی چلی ہے اب کے ہوا تیرے شہر میں
بندے بھی ہو گئے ہیں خدا تیرے شہر میں

تو اور حریم ناز میں پابستۂ حنا
ہم پھر رہے ہیں آبلہ پا تیرے شہر میں

کیا جانے کیا ہوا کہ پریشان ہو گئی
اک لحظہ رک گئی تھی صبا تیرے شہر میں

کچھ دشمنی کا ڈھب ہے نہ اب دوستی کا طور
دونوں کا ایک رنگ ہوا تیرے شہر میں

شاید تجھے خبر ہو کہ خاطرؔ تھا اجنبی
لوگوں نے اس کو لوٹ لیا تیرے شہر میں

خاطر غزنوی

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔