بہوئیں جھوٹی ہوتی ہیں
یا مائیں سچی ہوتی ہیں
مرد توازن کرتے کرتے
نفرت اور محبت میں
اپنے آپ کو کھو دیتے ہیں
زندہ رہنے کی کوشش میں
کتنے جذبے مر جاتے ہیں
طاقت کی اس اندھی جنگ میں
نفرت اتنی بڑھ جاتی ہے
گھراورگھر کی دیواروں کی
اینٹیں زہر سے بھر جاتی ہیں
رشتوں کی کستوری سے
احساس کی خوشبو مٹتی ہے
توعشق لہو میں مرجاتا ہے
پیدائش سے پہلے نسلیں
پشت میں بنجر ہو جاتی ہیں
باتیں چھوٹی چھوٹی ہیں پر۔۔
چھوٹی چھوٹی باتوں کواب
دل سے کون سمجھتا ہے
سلیم فگار