ممانعت کا قانون

خوشبوئے قلم محمدصدیق پرہاروی

اسلامی نظریاتی کونسل نے سینیٹ و قومی اسمبلی سے منظور شدہ 18 سال سے کم عمرکی شادی پر پابندی کا بل مسترد کردیا، اسلامی نظریاتی کونسل کا 242واں اجلاس چیئرمین علامہ راغب نعیمی کی زیر صدارت ہوا۔ کونسل نے شرمیلا فاروقی کی جانب سے پیش کردہ ”کم عمر کی شادی کے امتناع کا بل”غیر اسلامی قرار دیا۔ کونسل نے قرار دیا کہ ان بلوں میں عمر کی حد مقرر کرنے، اٹھارہ سال سے کم عمری کی شادی کو بچوں سے زیادتی (child abuse) قرار دینا اور اس پر سزائیں مقرر کرنے جیسی دیگر شقیں بھی اسلامی احکام سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ تاہم کونسل نے کم سنی کی شادیوں میں مفاسد کی بھی نشاندہی کی اوراس کی حوصلہ شکنی پر زور دیامجموعی طور پر کونسل نے اس بل کو مسترد کر دیا۔ کونسل نے اس امر کو بھی واضح کیا کہ اس بل کو پارلیمنٹ یا سینیٹ کی طرف سے کونسل کو ریویو کیلئے ارسال نہیں کیا گیا۔اسی طرح خیبرپختونخوا حکومت کی طرف سے ارسال کردہ ”امتناع ازدواجِ اطفال بل 2025” کو کونسل نے شریعت سے متصادم قرار دیا۔اجلاس میں وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے استفسار پر نکاح سے قبل تھیلیسیمیا کے ٹیسٹ کو لازمی قرار دینے کی بجائے اسے اختیاری رکھتے ہوئے شعور اجاگر کرنے پر زور دیا گیا۔کونسل نے رائے دی کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں نکاح کو غیرضروری قانونی پیچیدگیوں سے محفوظ رکھنا چاہیے اور اس حوالے سے عوامی آگاہی مہم زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔اجلاس میں عدالتی فیصلوں کی ذرائع ابلاغ میں رپورٹنگ پر بھی گفتگو ہوئی اور کونسل نے عدالتی فیصلوں کی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ پر تشویش کا اظہار کیا۔ یہ معاملہ عدالتی خلع سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے تناظر میں زیر بحث آیا۔ جہیز کے حوالے سے کونسل نے واضح کیا کہ لڑکی والوں پر سامان دینے کیلئے زور زبردستی کرنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے اور لڑکے والوں کی جانب سے مطالبات بھی درست نہیں۔ اس حوالے سے کونسل نے والدین کو تلقین کی کہ وہ رسم و رواج سے بالاتر ہو کر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں فیصلے کریں۔ شادی شدہ خواتین کے ڈومیسائل سے متعلق اٹارنی جنرل سپریم کورٹ آف پاکستان کے استفسار پر کونسل نے رائے دی کہ خواتین کو اختیار حاصل ہونا چاہیے کہ وہ شادی کے بعد اپنے شوہر کے علاقے کا ڈومیسائل رکھیں یا اپنا سابقہ ڈومیسائل برقرار رکھیں۔اس ضمن میں قانون جانشینی کی دفعہ 15، 16 میں ترمیم کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ خواتین کے حقوق متاثر نہ ہوں۔ادارہ اوقاف کو فعال اور مؤثر بنانے کیلئے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی جو اس ادارے کے انتظامی ڈھانچے، کارکردگی اور خدمات کے جائزے کے بعد سفارشات مرتب کرے گی۔اجلاس میں وزارت مذہبی امور وبین المذاہب ہم آہنگی کی طرف سے بھیجے گئے مسلم عائلی قوانین(ترمیمی)بل 2025 کی دفعہ 7 میں ترامیم تجویز کی گئیں۔ مزید برآں کونسل کے ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جو ایک جامع اسلامی عائلی قانون کا مسودہ تیار کرے گی۔اجلاس میں نیب کی جانب سے موصول ہونے والے سوالات، خاص طور پر مضاربہ، ہاؤسنگ سکیمز اور دیگر سرمایہ کاری سے متعلق معاملات پر بھی غور کیا گیا۔کونسل نے عدت کے دوران خواتین کے نان و نفقہ سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے استفسار کا بھی جائزہ لیا اور قراردیا کہ عدت کے بعد خاوند پر مطلقہ بیوی کے کوئی مالی حقوق واجب نہیں ہوتے۔ اسی طرح کونسل نے ازدواجی اثاثہ جات کے تصور کی بھی نفی کی۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بچوں کی شادی کی ممانعت کے بل پر دستخط کردیے۔قانون کے مطابق نکاح خواں کوئی ایسا نکاح نہیں پڑھائے گا جہاں ایک یا دونوں فریق 18 سال سے کم عمر ہوں، اس سے متعلق خلاف ورزی کرنے پر نکاح خواں کو 1 سال قید اور 1 لاکھ روپے جرمانہ ہوسکتا ہے۔قانون میں موجود ہے کہ 18 سال سے بڑی عمر کا مرد اگر کم عمر لڑکی سے شادی کرتا ہے تو اسے 3 سال تک قید بامشقت ہوگی جبکہ والدین بچے کی کم عمری میں شادی کریں یا اسے روکنے میں ناکام رہے تو 3 سال تک قید بامشقت اور جرمانہ ہوگا۔قانون کے مطابق عدالت کو علم ہو کہ کم عمر بچوں کی شادی کی جارہی ہے تو وہ ایسی شادی کو روکنے کیلیے حکم جاری کرے گی۔س قانون میں یہ بھی ذکر ہے کہ عدالت کو اطلاع دینے والا فریق اپنی شناخت چھپانا چاہے تو عدالت اسے تحفظ دے گی۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانافضل الرحمن کا کہنا تھاکہ پاکستان اسلام کے نام پربنا تھا، پاکستان کی اسلامی شناخت کوختم کیا جارہا ہے،کچھ قانون سازیاں آئی ایم ایف،فیٹف کی بنیاد کی گئیں،ہم ابھی بھی غلامی کے دور سے گزر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے، قرآن وسنت کے منافی قانون سازی ہو رہی ہے،زنا بالرضا کے لیے آسانیاں اور جائز نکاح کے لیے مشکلات پیدا کی جارہی ہیں، ایسی کوئی قانون سازی نہیں کرنے دیں گے۔سربراہ جے یو آئی ف کا کہنا تھا کہ آئینی ضمانت کے باوجود آئین کو پامال کیا جارہا ہے، اب18سال سے کم عمربچوں کی شادی کے قانون پر یو این قرار داد کا حوالہ دیا جا رہا ہے، پاکستان میں جائزنکاح کے لیے مشکلات پیدا کی جارہی ہے۔ فضل الرحمن نے کہا کہ ہم عوام میں شعوربیدارکریں گے، اس بل کے خلاف عملی اقدامات،مختلف شہروں میں جلسے کریں گے۔ ان کا کہنا تھا ملکی آئین میں صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ قرآن اور سنت کے منافی کوئی قانون سازی نہیں ہوگی، پاکستان میں جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے اور آئین کو پامال کیا جارہا ہے۔
مفتی محمدرفیق شاکر کہتے ہیں کہ 18 سال سے کم عمر بچوں کے نکاح پر پابندی کا بل قرآن و سنت سے متصادم ہے جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں، نکاح کے لیئے عمر کی کوئی حد شریعت میں مقرر نہیں کی گئی اس کی بنیاد بلوغت پر رکھی گئی ہے۔اس بل کا مقصد بے حیائی و فحاشی کو فروغ دینا ہے، ہم کسی صورت اس غیر شرعی اور مغربی ایجنڈے پر مبنی قانون کو تسلیم نہیں کرتے، یہ بل مغربی این جی اوز، لبرل عناصر، اور سیکولر لابی کا ایجنڈا ہے، اس بل کامقصد خاندانی نظام کو تباہ کرنا اور نکاح جیسے پاکیزہ رشتے کو مشکل بنانا ہے، اس بل کا مقصد بے حیائی و فحاشی کو فروغ دینا ہے۔اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی اس بل کو غیر شرعی قرار دیا ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قانون پاکستان کے اسلامی تشخص کے خلاف ہے، فوری طور پر اس غیر شرعی قانون کو واپس لیا جائے، ملک میں قانون سازی قرآن و سنت کی روشنی میں کی جائے، نہ کہ مغربی اداروں کے دباؤ میں آکر، اسلامی احکام کے نفاذ پر کوئی سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں، یہ قانون کسی صورت نافذ العمل نہیں ہونے دیا جائے گا۔
اٹھارہ سال سے کم عمربچوں کی شادیوں کی ممانعت کابل منظور کرکے قومی اسمبلی وسینیٹ نے اوراس بل ہردستخط کرکے صدر پاکستان نے پاکستانی قوم کویہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ وہ جوچاہیں کرسکتے ہیں۔ ہم بااختیاربھی ہیں اورطاقتور بھی۔ صدرپاکستان، وزیراعظم، وزیرقانون، سپیکرقومی اسمبلی، ممبران قومی اسمبلی اورسینیٹرز یادرکھیں کہ وہ قانون بنانے اوراس میں ترمیم کرنے میں ضروربااختیارہیں لیکن وہ اتنے بااختیارنہیں کہ جن معاملات میں شریعت نے ممانعت نہیں کی یہ ان معاملات میں ممانعت کے قوانین بنادیں۔ اٹھارہ سال سے کم عمربچوں کی شادیوں پرپابندی عائدکردی ہے۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ ایسے بچے اوربچیاں جوبالغ ہوجائیں اورابھی اٹھارہ سال سے عمر کم ہے۔ ایسے بچوں کے مناسب رشتے بھی موجودہیں اوران کی شادی کے دیگرعوامل بھی مکمل ہیں۔لیکن ان کے والدین پابندی کی وجہ سے ان کی شادی نہیں کرسکتے۔ اسلامی تعلیمات میں بلوغت بالائی حد پندرہ سال بتائی گئی ہے۔ قانون کے مطابق 18 سال سے پہلے شادی نہیں ہوسکتی۔ ان تین سالوں میں ایسے بچوں سے گناہ ہوجائے تواس کاذمہ دارکون ہوگا۔ یہی قومی اسمبلی اورسینیٹ کے ممبران اورصدرپاکستان ہوں گے۔ وہ اس لیے کہ انہوں نے قانون منظورکرکے بالغ بچوں کی فطری ضرورت پوری کرنے کے جائز ذریعہ کو بندکردیا ہے۔ نکاح کرناسنت ہے۔یوں شادی بیاہ معاشرتی سے زیادہ اسلامی فریضہ ہے۔ اورحکومت پاکستان نے اس قانون کومنظورکرنے سے پہلے علمائے کرام یہاں تک کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے لینابھی ضروری نہیں سمجھا۔
فضل الرحمن نے اس قانون کے خلاف جلسے کرنے کااعلان کیا ہے۔ سوال تویہ ہے کہ جب یہ قانون سازی ہورہی تھی۔ اس وقت موصوف کہاں تھے۔ کیاانہوں نے اس بل کے خلاف قومی اسمبلی میں آوازبلندکی۔ کیاجلسے کرنے سے اس قانون کوواپس لے لیاجائے گا۔ ایسانہیں ہوگا۔ فضل الرحمن کے تمام سیاسی جماعتوں سے تعلقات ہیں۔ وہ تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت سے ملاقاتیں کرکے انہیں اس قانون کوواپس لینے پرآمادہ کریں۔ صرف جلسے کرنے سے کچھ نہیں ہونے والا۔
اس قانون کی منظوری پرعلمائے کرام کی خاموشی بھی سوالیہ نشان ہے۔ علمائے کرام کوبھی اپناموقف عوام کے سامنے رکھناچاہیے۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن صاحب علمائے کرام کااجلاس بلاکراس قانون کے حوالے سے رائے قائم کرکے عوام کے سامنے رکھیں۔ اگرعلمائے کرام اس قانون کوقرآن وسنت کے متصادم قراردیتے ہیں تواس قانون کوواپس کرانے میں اپناکرداراداکریں۔ یوں تواسلامی نظریاتی کونسل نے بھی اس قانون کومسترد کردیا ہے۔ جہیز کے حوالے سے کونسل نے واضح کیا کہ لڑکی والوں پر سامان دینے کیلئے زور زبردستی کرنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے اور لڑکے والوں کی جانب سے مطالبات بھی درست نہیں۔ اس حوالے سے کونسل نے والدین کو تلقین کی کہ وہ رسم و رواج سے بالاتر ہو کر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں فیصلے کریں۔ہم یہاں اسلامی نظریاتی کونسل کو اس طرف بھی متوجہ کرناچاہتے ہیں کہ شادیوں میں مطالبات صرف لڑکے والوں کی طرف سے ہی نہیں لڑکی والوں کی طرف سے بھی کیے جاتے ہیں۔ جہیزکاسامان اب لڑکے والوں سے کہاجاتا ہے کہ وہ خریدکردیں۔ مطالبات دونوں طرف سے نہیں ہونے چاہییں۔
حکومت پاکستان کوتوچاہیے تھا کہ وہ شادیوں میں حائل مشکلات کودورکرنے کے لیے قانون سازی کرتی،دونوں طرف سے مطالبات کی حوصلہ شکنی کے اقدامات کرتی، شادیوں پرزیادہ اخراجات کرنے پرپابندی لگاتی، اس کے برعکس اس نے نکاح جیسے جائز عمل پربھی پابندی لگادی ہے۔ بات سخت ضرورہے مگر بات سمجھانے کے لیے لکھنابھی ضروری ہے کہ وزیراعظم شہبازشریف تنہائی میں بیٹھ کرسوچیں کہ اگرقیامت کے دن اللہ تعالیٰ نے آپ سے یہ پوچھ لیا کہ کیاہم نے تمہیں حکومت اس لیے دی تھی کہ نکاح جیسے جائزعمل پرپابندی لگادو اور والدین بروقت اپنافرض اداکریں توان کے لیے سزائیں مقررکردو۔ اس وقت وزیراعظم صاحب کیاجواب دیں گے۔

محمدصدیق پرہاروی