کبھی اندھا کبھی بہرا

ارشاد نیازی کی ایک اردو غزل

کبھی اندھا کبھی بہرا کبھی گونگا بن کر
میں نے رشتوں کے تقدس کو نبھایا اکثر

دستِ معمار قلم کرنے کا بھی اذن ملا
جب ترے پاؤں کی خاطر بنا سنگِ مرمر

کون دن رات مرے صبر سے خائف ہے یہاں
کون دن رات مری راہ میں رکھے پتھر

نیند کو وصل کی نعمت یہ کہاں سونپے گا
مری آنکھوں میں ترے ہجر کا وحشی لشکر

منتظر کب سے کسی گھاٹ پہ اک دوشیزہ
اور مرے لب پہ گھنی پیاس کا سونا منظر

کیوں میں خوش رہنے کی ناکام اداکاری کروں
کیوں مرے گریے کی نسبت ہو پرایا کنکر

وہ تکلف کی اذیت نہ اٹھائے ارشاد
میرے ہاتھوں میں بصد شوق تھمائے خنجر

ارشاد نیازی

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔