کب کسی کے حسنِ فتنہ گر پہ کہتا ہوں غزل

غزل بقلم محمد ولی اللّٰہ ولی ، نئی دہلی

کب کسی کے حسنِ فتنہ گر پہ کہتا ہوں غزل
جو چڑھے نیزے پہ میں اُس سر پہ کہتا ہوں غزل

بھوکے معصوموں کی آنکھوں نے بھلا کیا کہہ دیا!
میں کہ اب اپنی ہی چشمِ تر پہ کہتا ہوں غزل

جس نے بخشی ہیں مِرے سجدوں کو یہ رسوائیاں
میں اُسی ظالم کے سنگِ درپہ کہتا ہوں غزل

میرا آہنگِ غزل ہے اِس لیے سب سے الگ
دیدۂ تر یا دلِ مضطر پہ کہتا ہوں غزل

آرزوئے صبح میں جینا ہے مجھ کو اِس لیے
اپنے خوابوں کے حسیں منظر پہ کہتا ہوں غزل

پھیکا پھیکا سا لگے ہے میرؔ کی دلّی کا رنگ
اَب جو اپنے شہر کے منظر پہ کہتا ہوں غزل

آپ کیجیے فکر اُس محشر کی لیکن میں ولیؔ
جو بپا ہے آج اُس محشر پہ کہتا ہوں غزل

ولی اللہ ولی

ولی اللہ ولیؔ

سوانحی اشاریہ نام : محمد ولی اللہ قلمی نام : ولی اللہ ولی ؔ ولادت : ۷ جنوری ۱۹۶۷ء جائے ولادت : حسن پور وسطی، مہوا، ویشالی، بہار والدکا نام : محمد امین اللہ ابن علی کریم والدہ کا نام : زاہدہ خاتون بنت عبد السعید عرف محمد موسیٰ تلمّذ : ڈاکٹر معراج الحق برقؔ، جناب قیصرؔ صدیقی تعلیم : ایم۔ اے، پری پی ایچ۔ ڈی(فارسی)، جواہر لعل نہرویونیورسٹی، نئی دہلی مشغلہ : ملازمت، فارسی نشریات، آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی۔

تبصرے دیکھیں