کانپتے ہونٹ ہیں آواز میں دھیما پن ہے

لطیف ساجد کی ایک اردو غزل

کانپتے ہونٹ ہیں آواز میں دھیما پن ہے
کتنا دشوار کنیزوں کا کنوارا پن ہے

یہ کسی ایک کہانی سے نہیں اَخذ شدہ
جھوٹ تاریخ کا مجموعی کمینہ پن ہے

اشک ہیں نُوری خزینوں کے نگینے جیسے
تیرے غمگین کی آنکھوں میں اچھوتا پن ہے

معذرت آپ کی آواز نہیں سُن پایا
میرے ہمراہ کئی سال سے بہرا پن ہے

ہم خد و خال سے اندازہ لگا لیتے ہیں
واقعی دشت ہے یا ذہن کا سُوکھا پن ہے

جلتے خیموں کا دھواں ساتھ لیے پھرتا ہوں
غم کا احساس مری ذات کا کڑوا پن ہے

خوبصورت ہے مگر شک میں گھری ہے ساجد
جیسے دنیا کسی مٹیار کا سُونا پن ہے

لطیف ساجدکانپتے ہونٹ ہیں آواز میں دھیما پن ہے
کتنا دشوار کنیزوں کا کنوارا پن ہے

یہ کسی ایک کہانی سے نہیں اَخذ شدہ
جھوٹ تاریخ کا مجموعی کمینہ پن ہے

اشک ہیں نُوری خزینوں کے نگینے جیسے
تیرے غمگین کی آنکھوں میں اچھوتا پن ہے

معذرت آپ کی آواز نہیں سُن پایا
میرے ہمراہ کئی سال سے بہرا پن ہے

ہم خد و خال سے اندازہ لگا لیتے ہیں
واقعی دشت ہے یا ذہن کا سُوکھا پن ہے

جلتے خیموں کا دھواں ساتھ لیے پھرتا ہوں
غم کا احساس مری ذات کا کڑوا پن ہے

خوبصورت ہے مگر شک میں گھری ہے ساجد
جیسے دنیا کسی مٹیار کا سُونا پن ہے

لطیف ساجد

لطیف ساجد

لطیف ساجد پانچ اگست انیس سو اسی کو ونیکے تارڑ حافظ آباد میں پیدا ہوئے، دو ہزار ایک میں بطورِ سولجر آرمی میں بھرتی ہوئے دو ہزار تین میں کمانڈو کورس کے بعد ایس ایس جی چلے گئے تین سال صدر پرویز مشرف کی پرسنل سیکورٹی میں ڈیوٹی کے یو این مشن افریقہ چلے گئے ریٹائرمنٹ کے بعد حافظ آباد ذاتی کاروبار کر رہے ہیں،بچپن سے شعر کہہ رہے ہیں دو ہزار اکیس میں پہلا شعری مجموعہ دعا زاد کے نام شائع ہوا جس شمار دور حاضر کے اہم شعری مجموعوں میں ہوتا ہے