جو سنتا ہوں کہوں گا میں

انور شعورکی ایک اردو غزل

جو سنتا ہوں کہوں گا میں، جو کہتا ہوں سنوں گا میں​
ہمیشہ مجلسِ نطق و سماعت میں رہوں گا میں​
​
نہیں ہے تلخ گوئی شیوہ ء سنجیدگاں لیکن​
مجھے وہ گالیاں دیں گے تو کیا چپ سادھ لوں گا میں​
​
کم از کم گھر تو اپنا ہے، اگر ویران بھی ہوگا​
تو دہلیز و در و دیوار سے باتیں کروں گا میں​
​
یہی احساس کافی ہے کہ کیا تھا اور اب کیا ہوں​
مجھے بالکل نہیں تشویش آگے کیا بنوں گا میں​
​
مری آنکھوں کا سونا چاہے مٹی میں بکھر جائے​
اندھیری رات! تیری مانگ میں افشاں بھروں گا میں​
​
تساہل ایک مشکل لفظ ہے، اس لفظ کا مطلب​
کتابوں میں کہاں ڈھونڈوں، کسی سے پوچھ لوں گا میں​
​
حصول آگہی کے وقت کاش اتنی خبر ہوتی​
کہ یہ وہ آگ ہے جس آگ میں زندہ جلوں گا میں​
​
اُداسی کی ہوائیں آج پھر چلنے لگیں؟ اچھا​
تو بس آج اور پی لوں، کل سے قطعا` چھوڑ دوں گا میں​
​
کوئی اک آدھ تو ہوگا مجھے جو راس آجائے​
بساطِ وقت پر ہیں جس قدر مہرے چلوں گا میں​
​
نہ لکھ پایا ترے دل میں اگر تحریرِ غم اپنی​
تری ماتھے پہ اک گہری شکن ہی کھینچ دوں گا میں​
​
کیا ہے گردشوں سے تنگ آ کر فیصلہ میں نے​
کہ محنت کے علاوہ چاپلوسی بھی کروں گا میں​
​
اگر اس مرتبہ بھی آرزو پوری نہیں ہوگی​
تو اس کے بعد آخر کس بھروسے پر جیوں گا میں​
​
یہی ہوگا، کسی دن ڈوب جاؤں گا سمندر میں​
تمناؤں کی خالی سیپیاں کب تک چنوں گا میں​
​
انور شعور​