جو کچھ ہمیں آتا ہے نظر ہے کہ نہیں ہے
افلاک سے اتری یہ سحر ہے کہ نہیں ہے
زندہ ہوں جہاں آج بھی میں وہم و گماں میں
اس روئے زمیں پر وہ نگر ہے کہ نہیں ہے
تتلی نہ کوئی پھول پرندے نہ شجر ہیں
لوگوں میں کوئی ذوقِ نظر ہے کہ نہیں ہے
جاتے ہی نہیں گھر سے بروں پاؤں تمہارے
دہلیز سے آگے کی خبر ہے کہ نہیں ہے
ہر رات کہیں خواب کے براق پہ جانا
نادیدہ زمانوں کا سفر ہے کہ نہیں ہے
میں تیری جدائی میں یہاں بکھرا پڑا ہوں
سب دنیا مری زیر و زبر ہے کہ نہیں ہے
ہر بجھتا دیا طاق سے یہ پوچھ رہا ہے
اس گھر میں دعاؤں کا گزر ہے کہ نہیں ہے
بیٹھا ہوا ہے آدمی خوابوں کی لحد پر
افسوس میں ڈوبا یہ نگر ہے کہ نہیں ہے
اب پوچھتا ہے راستہ پیروں سے لپٹ کر
اے ابنِ سفر تیرا بھی گھر ہے کہ نہیں ہے
اک عمر سے ہے سر پہ اماوس کی گھنی رات
اس تیرہ شبی کی بھی سحر ہے کہ نہیں ہے
سلیم فگار