جو دل سے اُکھڑی وہیں بعد میں رکھی گئی تھی
یہ غم کی اینٹ یہیں بعد میں رکھی گئی تھی
میں جب نہ روک سکا عرض و التجا سے تجھے
ترے قدم پہ جبیں بعد میں رکھی گئی تھی
بوقتِ عہد تو سر ” ہاں ” کے زاویے میں ہلا
مگر زباں پہ ” نہیں ” بعد میں رکھی گئی تھی
خلا کی آنکھ سے دیکھیں تو ایسا لگتا ہے
کہ چاند پہلے زمیں بعد میں رکھی گئی تھی
وجودِ خاک میں پہلے خدا نے ، قرب ، رکھا
یہ شاہ رگ تو کہیں بعد میں رکھی گئی تھی
احمد آشنا