جو بھی ہوتا ہے تِرا حال گُزارا کر لے

ایک اردو غزل از رشید حسرت

جو بھی ہوتا ہے تِرا حال گُزارا کر لے
جیسے کٹتے ہیں مہ و سال گُزارا کر لے

کب یہ سوچا تھا بہُو چھوڑ کے جائے گی تُجھے
سوچتا کیا ہے مِرے لعل گُزارا کر لے

لے کے بیٹھا ہے گِلہ کیا کہ فِلاں نے لوٹا
بُھوکے کُتّے ہیں، اِنہیں پال گُزارا کر لے

شاطری زہن کے لوگوں میں گِھرا بیٹھا ہے
تُجھ کو آتی جو نہِیں چال گُزارا کر لے

اِس کے سُلجھانے میں تو تُجھ کو جُتا دیکھا ہے
اور بڑھ جائے نہ جنجال گُزارا کر لے

مُشکلیں پہلے پہل، بار لگا کرتی ہیں
خُود کو مُشکل میں نہِیں ڈال گُزارا کر لے

نوکری تُم کو نہِیں ہے، نہ سہی، مان مِری
بکریاں شوق سے تو پال گُزارا کر لے

مَیں تُجھے وقت کی رفتار بتانا چاہُوں
ماں ہی بن جائے تِری ڈھال گُزارا کر لے

مچھلیاں تُجھ کو ہیں مرغُوب تو پِھر ایسا کر
ڈال کے بیٹھ ابھی جال گُزارا کرلے

سبزیاں جیسی ملیں لا کے دُکاں پر رکھ دے
اچھا آتا جو نہِیں مال گُزارا کر لے

ماس نوچا ہے یہاں اپنے بیاباں نے رشِیدؔ
رہ گئی جِسم پہ جو کھال گُزارا کر لے

رشِید حسرتؔ

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔