جس گھڑی عشق سربریدہ ہو

ایک اردو غزل از ارشاد نیازی

جس گھڑی عشق سربریدہ ہو
دشت کی خاک آبدیدہ ہو

داستاں گو بھی اجنبی ہو کوئی
اور کہانی بھی ناشنیدہ ہو

رقص کرتی ہوا کی خواہش ہے
دیپ کی لو ستم رسیدہ ہو

رنگ پتھرا رہے ہوں آنکھوں میں
بد نگاہی نرا عقیدہ ہو

دھوپ سے پاؤں جب جلیں ارشاد
راہ میں پیڑ برگزیدہ ہو

ارشاد نیازی

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔