جذبوں کے تن پہ آئے ہوئے زخم چھیل کے

مبشر سعید کی ایک اردو غزل

جذبوں کے تن پہ آئے ہوئے زخم چھیل کے
قصے سُنا مجھے کسی شامِ طویل کے

صبر و رضا سے پُر ہے یہ تشنہ بدن مرا
نخرے اُٹھاؤں کس لئے دریا ذلیل کے

کُھل کر نہیں کُھلے گی یہ ذہنِ نفیس پر
کرتوت جانتا ہوں میں دنیا بخیل کے

کل میں نے چاند سے کہا آہستگی کے ساتھ
تم فرد لگ رہے ہو محبت قبیل کے

میں زندگی کو زندگی مانوں گا تب سعید
الفاظ لے کے آئے وہ اپنی دلیل کے

مبشّر سعید

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔